خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 412
خطبات طاہر جلدم 412 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء نبی تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی عفت اور پاکبازی کے اظہار کے طور پر وہ قصہ پیش فرمایا ہے جسے لوگوں نے یوسف اور زلیخا کا قصہ بنالیا ہے۔مگر مفسرین حضرت یوسف علیہ السلام کو نعوذ بالله من ذالک مغلوب الشہوات کے طور پر پیش کرتے ہیں اور زلیخا کو حضرت زلیخا کے نام سے یاد کرتے ہیں اور عفت کی شہزادی کے طور پر پیش کرتے ہیں: ع خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا نام خرد اس سے زیادہ اور کسی بات پر یہ مصرعہ صادق نہیں آسکتا۔غور طلب بات یہ ہے کہ جس کی پاکیزگی کو خود خدا بیان فرما رہا ہے اس کے اندر یہ لوگ گند ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جس کا گند خدا تعالیٰ ظاہر فرمارہا ہے اس کو پاکیزہ ٹھہرا کر اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔یہ قرآن ہے تمہارا! اور یہ انبیاء کے بارہ میں تمہارا تصور ہے تو پھر خدا کی قسم ہم مجرم نہیں اس بات کے کہنے پر کہ تمہارا قرآن اور ہے اور ہمارا اور تمہارے انبیاء اور ہیں ہمارے انبیا ء اور۔تمہارے ان تصورات کا کوئی تعلق نہیں ان تصورات کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں عطا فرمائے ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی نے بہت سی ایسی روایات درج کر کے ان کی تردید کی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس عورت سے زنا کا پکا ارادہ کر لیا اور پھر کیا کیا ہوا۔کئی صفحات پر پھیلی ہوئی روایات آپ پڑھیں تو آپ کے پسینے چھوٹ جائیں، بڑا خوفناک نقشہ کھینچا ہے حتی کہ ان کا باپ سامنے کھڑا ہو گیا یعنی خدا تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھیج دیا کہ کچھ تو حیا کرے گا۔نعوذ باللہ من ذلک۔( یہ غیروں کا تصور ہے ہمارا تصور یہ نہیں ہے) چنانچہ اس طرح نقشہ کھینچتے ہیں کہ آخر خدا نے تنگ آکر حضرت یعقوب کو سامنے لاکھڑا کیا اپنے باپ کے سامنے بھی یہ جرأت کرے گا۔نہایت بے باکی کے ساتھ اس قسم کی باتیں تفسیر جلالین میں بھی لکھی ہیں اور تفسیر جامع البیان میں بھی۔تو جس کو خدا عفت کے شہزادہ کے طور پر پیش کرتا ہے یعنی نبیوں میں بھی وہ جو عفت کا شہزادہ کہلاتا ہے اس کا یہ حال تھا تو عام آدمی جو نبی نہیں ہیں خواہ ولی ہوں خواہ قطب ہوں یا غوث ہوں ان کا پھر کیا حال ہو گا اور جوان سے ادنی درجہ کے لوگ ہیں ان کی عصمت کا پھر کیا تصور ہوگا۔دیکھیں کس قدر ظالمانہ حملے کئے ہیں اور جب حکم و عدل آیا اور ان تمام حملوں سے قرآن کریم کے اصفی انوار کو پاک اور صاف کر کے دکھایا تو