خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد۴ 367 خطبه جمعه ۱۹ ر اپریل ۱۹۸۵ء ہوگی۔(مفہوم فتوی از الملفو ظ حصہ دوم صفحه ۹۸،۹۷ مرتبه مفتی اعظم ہند ) یہ ایک ایسی غیظ و غضب کی آگ ہے جو ملاؤں کے سینوں میں ایک دوسرے کے خلاف بھڑک رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں ظلم و تعدی کی باتیں ان کے منہ سے نکل رہی ہیں ان کے قلموں سے جاری ہورہی ہیں اور لوگوں نے ان سب سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔نظر آتا ہے تو صرف جماعت احمدیہ کا وہ فتویٰ جس سے زیادہ شریفانہ، مہذبانہ اور معقول فتویٰ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔کہ اس کے لگ بھگ یا اس کے قریب پھٹکتا ہوا بھی کوئی فتویٰ نکال کر دکھا ئیں۔رہی مودودی جماعت تو اس کے خلاف بھی فتویٰ سنئے۔شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ یہ باقیوں کے نزدیک دائرہ اسلام کے اندر ہیں اور اس لئے ان کے ساتھ مختلف سلوک ہونا چاہئے۔نہیں ! ایسا ہر گز نہیں۔چنانچہ محمد صادق صاحب مہتم مدرسہ مظہر العلوم محلہ کھڈہ کراچی لکھتے ہیں: حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اصلی دجال سے پہلے تھیں دجال اور پیدا ہوں گے جو اس دجال اصلی کا راستہ صاف کریں گے۔میری سمجھ میں ان تیں دجالوں میں ایک مودودی ہیں۔“ ( مولانا احمد علی کی مرتبہ حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب صفحہ ۹۷) آپ کہیں گے فتویٰ دینے والا پتہ نہیں کون مولوی ہے۔مولوی مفتی محمود صاحب تو جانی پہچانی اور معروف شخصیت ہیں وہ فرماتے ہیں: میں آج یہاں پریس کلب حیدر آباد میں یہ فتویٰ دیتا ہوں کہ مودودی گمراہ ، کافر اور خارج از اسلام ہے اس سے اور اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا نا جائز اور حرام ہے۔اس کی جماعت سے تعلق رکھنا صریح کفر اور ضلالت ہے۔وہ امریکہ اور سرمایہ داروں کا ایجنٹ ہے۔اب وہ موت کے آخری کنارے تک پہنچ چکا ہے اب اسے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ہفت روزہ زندگی ۱۰۔نومبر ۱۹۶۹ صفحه ۳۰) اب یہ وہ دو طاقتیں ہیں جن پر موجودہ حکومت کی بناء ہے ایک دیو بندی جن کے نمائندہ یہ مفتی محمود صاحب اور ان کے ہم خیال ہیں اور دوسری جماعت اسلامی جن کے امیر مولوی مودودی