خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 339

خطبات طاہر جلدم 339 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس لئے کہ وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نسیا منیا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔“ نہ کرتے تھے نہ کرنے کی طاقت تھی اپنے زخموں سے چور پڑے سسک رہے تھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عالم اسلام پر یہ ظلم کیا۔پھر لکھتے ہیں کہ : ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ تو پوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطر ناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہوکر اڑنے لگا۔انہوں نے مدافعت کا پہلو بدل کر مغلوب کو غالب بنا کے دکھا دیا ہے۔“ کتنا بڑا خطرہ ہے عالم اسلام کو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جان ، اپنی آن کی قربانی دے کر اور دن رات اپنی ساری طاقتیں اسلام کے دفاع میں خرچ کر کے نہتے ، مظلوم مغلوب اور سکتے ہوئے مسلمانوں کو غالب بنا دیا۔معاندین کہتے ہیں کہ اس کو ہم معاف نہیں کر سکتے اور صرف ایک نہیں اسلام کے ہر دشمن کو محبت پامال کر کے دکھایا۔یہ ہے تکلیف آج کے علماء کو کہ ایسا کرنے کی ان کو جرات کیسے ہوئی۔یہی صاحب پھر لکھتے ہیں : اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی خاص خدمت سرانجام دی ہے ان آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوای پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کس درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریر میں نظر