خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 312
خطبات طاہر جلدم 312 خطبه جمعه ۵ راپریل ۱۹۸۵ء مسیح و مہدی کی شان و مرتبہ کو اپنی روحانی بصیرت سے صحیح دیکھا تھا اور اسے درست بیان فرمایا تھا تو پھر اگر تم میں انصاف اور تقویٰ ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر لگائے گئے بے بنیاد اعتراضات کو نہ صرف واپس لو بلکہ آپ کے دعاوی کو صدق دل سے قبول کرو۔اگر چہ بظاہر ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ تم تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان دعاوی کے نتیجہ میں آپ کے تمام ماننے والوں کو بھی گردن زدنی قرار دے رہے ہو۔تم نے تو یہ فیصلہ بھی دیا کہ احمدیوں کے گھر لوٹے جائیں ، ان کے اموال کو آگیں لگائی جائیں ، ان کے اندوختے تباہ کر دیے جائیں ، ان کی بیوی بچوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جائے اور اگر بیوی بچے پہلے زندہ رہیں تو ان کے والدین کو ان کے سامنے قتل کیا جائے۔تمہارے نزدیک اگر یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی وجہ سے جائز ہے تو پھر گزشتہ ائمہ اور بزرگوں کے ماننے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو۔مگر نہیں تم میں جرات نہیں تقویٰ نہیں محض زبانیں تیز ہیں اس سے زائد تمہیں کوئی اختیار نہیں۔سیدھی بات ہے کہ امام مہدی کے متعلق بزرگان سلف کا جن کے میں نے نام لئے ہیں یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ اس کا یہ مقام ہوگا وہ یہ یہ باتیں کرے گا۔پس امام مہدی کے دعویدار کے لئے ضروری تھا کہ وہ یہ دعاوی کرے۔یہ اس کی سچائی کی پہچان ہے نہ کہ اس کے جھوٹ کی دلیل۔اگر وہ دعوی کرتا اور کہتا کہ میں یہ نہیں ہوں تو تم اٹھتے اور اس کو مطعون کرتے کہ تم نے تو یہ دعویٰ نہیں کیا اس لئے تم لازماً جھوٹے ہو کیونکہ پہلے ائمہ تو تمہارے متعلق یہ یہ کچھ فرما گئے ہیں۔ایک اور اعتراض بلکہ مجموعہ اعتراضات یہ پیش کیا گیا ہے کہ: جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں مرزا غلام احمد نے ابتداء میں نبوت کے دعوی کی حقیقی خواہش کا واضح طور پر اظہار نہیں کیا۔انہوں نے آغاز ختم نبوت کے بارے میں پہنی انتشار پیدا کرنے سے کیا اور پھر بتدریج لیکن تیزی سے اپنی منزل مقصود تک بڑھتے چلے گئے۔بڑے تذبذب اور متصادم اظہارات کے بعد انہوں نے بالآخر نبی ہونے کا دعویٰ کیا“۔پھر ایک اور اعتراض یہ کرتے ہیں کہ :