خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 22
خطبات طاہر جلدم 22 22 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء لمبے عرصہ تک ہمیں تاریخ میں نظر آتا ہیکہ اسلام کے پاک نام کی طرف جبر منسوب کیا گیا۔لیکن جہاں تک مقصد کا تعلق ہے وہ مقصد اپنی ذات میں اعلیٰ اور پاک تھا اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بہت ہی مکروہ تھا لیکن مقصد بہر حال یہی تھا کہ اسلام کا نام بلند کیا جائے اور تمام عالم میں اسلام کو پھیلایا جائے۔اگر دلائل سے نہیں پھیل سکتا تو تلوار کے زور سے پھیلایا جائے اور تو حید کو قائم کیا جائے اگر برہان اور حجت کے ساتھ تو حید قائم نہیں ہو سکتی تو پھر بزور بازو یا نیزے کی آنی میں پرو کر بھی اگر تو حید دلوں میں داخل کی جاسکتی ہو تو دلوں میں داخل کی جائے۔تو یہ ایک عجیب مثال ہے ایک نہایت پاک اور اعلیٰ مقصد کی خاطر ایک برے ذریعہ کو اختیار کرنے کی جس سے اسلام کلیۂ مبرا ہے مگر بہر حال آج کے دور میں ایک بالکل نیاواقعہ آپ کی آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے۔تاریخ اسلام میں کسی اسلامی حکومت کی طرف سے پہلی بار یہ کوشش ہورہی ہے کہ بزور شمشیر مسلمانوں کو مرتد کیا جائے ، بزور شمشیر مسجدوں کو بے آباد کیا جائے، بزور شمشیر دلوں سے اسلام کی محبت نکالی جائے اور تلوار کے زور سے کلمہ طیبہ کے ساتھ روحوں کے تعلق کو منقطع کر دیا جائے۔یہ درد ناک واقعہ اس سے پہلے کبھی عالم اسلام میں نہیں گزرا تھا۔ایک کر بلا تو وہ تھی جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ اولاد پر انتہائی مکروہ مظالم کئے گئے اور آج تک اسلام اس واقعہ کی یاد سے یا اہل اسلام اس واقعہ کی یاد سے روتے اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور ایک یہ کر بلا کا دور ہے کہ حضرت محمد مصطفی مے کے پیغام اس اعلیٰ مقصد کو ذبح کیا جا رہا ہے۔جس مقصد کی خاطر لاکھوں مسلمان اُس زمانہ میں بھی ذبح ہونے کے لئے تیار تھے اور آج بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی شکل میں یہ ہر کر بلا کو قبول کر لیں گے لیکن کلمہ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔آپ تصور کیجئے کہ آئندہ کا مؤرخ کس طرح ان واقعات کو دیکھے گا اور کس تعجب سے ان واقعات پر نگاہ کرے گا کہ یہ اسلامی حکومت خواہ وہ بزور شمشیر ہی آئی ہو، خواہ وہ آمریت کے ذریعہ ہی مسلط کی گئی ہومگر بہر حال وہ ایک اسلامی حکومت کہلاتی تھی ، وہ ملاں خواہ وہ اسلام کی روح اور مغز سے ناواقف ہو چکے ہوں مگر بہر حال اسلام ہی کی طرف منسوب ہوتے تھے، وہ کیسے اس بات پر آمادہ ہوئے کہ کلمہ تو حید کو زبر دستی مٹانے کا بیڑہ اٹھا لیں اور اپنی ساری طاقتیں اس بات پر خرچ کر دیں کہ بعض لوگوں کو کلمہ کے ساتھ وابستہ نہیں رہنے دیا جائے گا اور کلمہ توحید کو جہاں تک بس چلے مٹا کر چھوڑا