خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 280

خطبات طاہر جلدم 280 خطبه جمعه ۲۹/ مارچ ۱۹۸۵ء السلام خود بھی اقرار کرتے ہیں۔چنانچہ آپ نے اپنے رب سے یہ عرض کی وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إلى هَرُونَ (الشعراء:۱۴۰) یعنی اے میرے اللہ ! میرا سینہ تنگ ہے یعنی کھل کر بات نہیں نکل سکتی وَلَا يَنْطَلِقُ لِسانی اور زبان اچھی طرح نہیں چلتی اس لئے مجھے چھوڑ دے اور ان کی طرف ہارون کو بھیج دے۔چنانچہ فرعون نے اپنی طرف سے ان کے علاوہ بھی بعض دلائل پیش کئے۔پھر اللہ تعالی نتیجہ نکالتا ہے کہ ان لغود لائل کے نتیجہ میں جو زیادہ تر دھونس سے تعلق رکھتے تھفَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوْهُ اس نے اپنی قوم کو خائف کر دیا۔چنانچہ فرعون کے ڈر سے قوم نے اس کی بات مان لی اور خدا کے نبی کا انکار کر دیا۔اِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَسِقِيْنَ اس بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ انہوں نے فرعون کے ڈر سے انکار کیا ہے لہذاوہ بری الذمہ ہیں اور ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ نکتہ بیان فرمایا کہ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَسِقِینَ کہ وہ لوگ فاسق ہیں جنہوں نے خوف کے نتیجہ میں ایک ظالم آدمی کی بات مانی اور وقت کے نبی کا انکار کر دیا۔ان آیات میں دیگر امور کے علاوہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ظالم لوگ فاسقوں پر ہی حکومت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور انہی کو دبانے کی طاقت رکھتے ہیں۔اگر قوم میں فسق نہ ہو تو کوئی جابر آدمی اس قوم کو نہیں دبا سکتا اس لئے ایسے موقع پر استغفار سے کام لینا چاہئے۔اگر حاکم وقت ظالم اور جابر ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں دو باتیں پیدا ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ بعض مجبورا اور مظلوم، ظلم کی چکی میں پیسے جاتے ہیں لیکن اپنی بات نہیں چھوڑتے ، اپنے ایمان میں خلل نہیں پیدا ہونے دیتے۔ان کے متعلق قرآن کریم نے کہیں فاسق کا لفظ استعمال نہیں فرمایا لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو حاکم وقت کے دباؤ کے نتیجہ میں اپنے دین کو بدل دیتے ہیں ، اپنے عقائد کے خلاف بات کرنی شروع کر دیتے ہیں، جو بات دل میں نہیں اس کا اقرار اپنی زبانوں سے کرنے لگ جاتے ہیں اور اپنی قلموں سے لکھنے لگ جاتے ہیں اس حالت کا نام قرآن کریم نے فسق قرار دیا ہے۔بہر حال جو واقعہ مدتوں پہلے مصر میں گزرا تھا اسی قسم کے واقعات اور حالات آج بد قسمتی سے پاکستان میں گزر رہے ہیں۔وہی دلائل پیش کئے جارہے ہیں۔وہ بوسیدہ باتیں بیان کی جارہی ہیں جو ہمیشہ آئمہ وقت کے خلاف ان کے مقابل پر لوگ گھڑا کرتے ہیں اور جو الزام وہ لگایا کرتے ہیں وہی