خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 279

خطبات طاہر جلدم 279 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء حضرت بانی جماعت احمدیہ پر چند اعتراضات کے مدلل اور مسکت جوابات ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ مارچ ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل قرآنی آیات تلاوت کیں: وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يُقَوْمٍ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَ هَذِهِ الْاَ نْهرُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِى أَفَلَا تُبْصِرُونَ اَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَذَا الَّذِى هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِيْنُ فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَيْكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوْهُ إِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فقين (الزخرف:۵۲ تا ۵۵) اور پھر فرمایا: جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے وہ سورۃ الزخرف سے آیت ۵۲ سے ۵۵ تک سے لی گئی ہیں۔ان میں دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔پہلی بات یہ کہ جب فرعون نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے انکار پر آمادہ کیا تو اس وقت اس نے جو دلائل پیش کئے ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ موسیٰ" چھوٹا آدمی ہے اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں اور دوسری دلیل یہ تھی کہ فصیح الکلام نہیں ، اپنی بات ٹھیک طرح بیان نہیں کر سکتا اور یہ بات ایسی ہے جس کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ