خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 262

خطبات طاہر جلدم 262 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء شائع ہورہے تھے تو ان میں سے ہر ایک مضمون کا ایک ایک لفظ دو دھاری تلوار کی طرح میرے دل کو کاٹتا اور پارہ پارہ کرتا تھا۔میں اکثر یہ اعلان کر چکا ہوں کہ احمدی نہیں ہوں اور احمدیوں کے بعض عقائد کے ساتھ دیانتداری کے ساتھ اختلاف ہے مگر باوجود اختلاف کے میں ان کو مسلمان سمجھتا ہوں اور ہندوستان کے اندر اور باہر وہ غیر مسلموں کے حملوں سے اسلام کے تحفظ کے متعلق جو بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔“ کیا یہ وہ فساد ہے جو احمدی ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں؟ پھر مغربی افریقہ کے مسلمانوں کی بیداری پر تبصرہ کرتے ہوئے لندن کا رسالہ ”دی افریقن ورلڈ“ The African) (World اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ: نائیجریا میں احمدی جماعت آزادی حقوق کی جدوجہد میں سب سے پیش پیش ہے۔( یہ ہے وہ فتنہ و فساد جو احمدیت کے نام پر پاکستان سے بقول قرطاس ابیض دساور کو بھیجا جا رہا ہے ) چند سال ہی کی بات ہے کہ وہاں احمدی وکیل اور احمدی ڈاکٹر پریکٹس کرتے نظر آئیں گے کیونکہ ان لوگوں کی رفتار نائیجریا میں روز افزوں ترقی پر ہے۔یہ یقینی بات ہے کہ چند سال میں ہی افریقی مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں اس ملک کے عیسائیوں کے دوش بدوش نظر آئیں گے اور سیاست مدن کے ایک دانا مبصر کو یہ بات نظر آ رہی ہے“ پاکستان سے ایک دفعہ ایک وفد نائیجیریا گیا۔اس کا سارا خرچ حکومت پاکستان نے برداشت کیا تھا۔اس وفد کو اس لئے بھجوایا گیا تھا کہ مغربی افریقہ کے ممالک میں دورہ کر کے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور ان لوگوں کو اکسایا جائے کہ وہ بھی احمدیت کے مخالفین میں شامل ہو جائیں تا کہ مل کر اس جماعت کی بیخ کنی کی جائے۔یہ پرانی بات ہے۔اس وقت مولا نانسیم سیفی صاحب نائیجریا میں ہمارے مبلغ انچارج ہوا کرتے تھے۔تو اس وفد کے متعلق یہ دلچسپ بات معلوم ہوئی کہ ان کی کسی نے پذیرائی ہی نہ کی۔نہ تو ان کو ریڈیو پر موقع ملا اور نہ ہی ان کو ٹیلی ویژن میں