خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 261

خطبات طاہر جلدم 261 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء کے پاس حق ایک شمہ برابر نہیں ہے ورنہ کیا وجہ ہے انہیں تمام عالم میں نشر واشاعت کی دھن نہیں۔ان کے مقابلہ میں ایک اکیلی جماعت احمد یہ ہے۔جس کے مخالف نہ صرف تمام دیگر مذاہب ہیں بلکہ مسلمانوں کی انجمنیں بھی خاص اسی جماعت کے در پئے ایذا رہتی ہیں لیکن باوجود اسکے یہ چھوٹی سی جماعت دن رات اسی کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اسلام کی نعمت سے خود ہی لطف اندوز نہ ہو بلکہ ساری دنیا کو فائدہ اٹھانے کے قابل بنادے“۔اب دیکھیں کس طرح ان کا جھوٹ کھل جاتا ہے۔مزعومہ قرطاس ابیض میں نقشہ یہ بھینچ رہے ہیں کہ احمدی ساری دنیا میں مسلمانوں کے اندر فساد پھیلانے کے لئے پھلے ہیں ، پاکستان میں چونکہ فساد نہیں کروا سکے۔اس لئے بیرونی ملکوں میں پھیل گئے اور ۱۹۵۳ء کے بعد یہ برآمد ہوئے پاکستان سے انالله وانااليه راجعون۔نہ تاریخ کا ان کو کوئی پتہ ہے، نہ دنیا کے حالات کی کوئی واقفیت ہے اور نہ عقل۔یہ رسالہ ان کی جدید تحقیقی کوششوں کا نچوڑ ہے، اس کی تو دو کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ہے اور واقعات کیا ہیں خودان کے اخبارات جن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں وہ لکھتے ہیں کہ دنیا کے سارے مذاہب جماعت احمدیہ کے دشمن ہیں کیونکہ اسلام کے نمائندے کے طور پر جماعت تمام مذاہب سے برسر پر کار ہے اور پھر علم کی حد یہ ہے کہ خود مسلمان بھی اس کے دشمن ہوئے جاتے ہیں یعنی صرف دیگر مذاہب ہی جماعت احمدیہ کے مخالف نہیں بلکہ مسلمانوں کی انجمنیں بھی خاص طور پر اس جماعت کے در پئے ایذار ہتی ہیں۔پس کون فساد کرا رہا ہے؟ کون ایذا دہی کے سامان بہم پہنچارہا ہے، جماعت احمدیہ یا مسلمانوں کی یہ انجمنیں؟ لیکن باوجود اس کے کہ جماعت احمد یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے پھر بھی دن رات اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ اسلام کی نعمت سے خود ہی متمتع نہ ہو بلکہ ساری دنیا کو اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے۔چنانچہ رسالہ ”حنیف نومبر ۱۹۲۵ء میں غازی محمود دھرم پال صاحب نے ایک مقالہ لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں :۔”مولانا ظفر علی کے وہ مضامین میری نظر سے گزرتے تھے جو احمدیوں کی تکفیر اور ارتداد کی تائید میں زوروشور سے زمیندار کے کالموں میں