خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 246
خطبات طاہر جلدم 246 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء دیواروں کے پیچھے سے لڑ سکتے ہیں بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِیدان کی آپس کی لڑائیاں بہت ہی شدید ہیں۔تم ان کو سمجھتے ہو۔جَمِیعًا کہ وہ اکٹھے ہیں حالانکہ قُلُوبُهُمْ شَتَّی ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَفْقَهُونَ یہ اس لئے ہے کہ وہ ایک ایسی قوم ہیں جنہیں کوئی عقل نہیں۔یہ اسی طرح کے لوگ ہیں جیسے ان سے پہلے گزرے تھے، انہیں گزرے ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ذَا قُوا وَ بَالَ اَمْرِ هِمُ انہوں نے اپنی بداعمالیوں کا مزہ چکھ لیا وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیم اور ان کے لئے ایک دردناک عذاب مقرر ہے۔ان آیات کا ترجمہ بظاہر ایک عام فہم ساتر جمہ ہے اور اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ اس کے پیچھے گویا بہت بڑے حقائق ہیں جن پر انسان غور کرے تو کچھ اور مطالب بھی نظر آئیں گے مگر قرآن کریم کی ہر آیت خواہ بظاہر کتنی عام فہم دکھائی دے انسان جب اس کے اندر ڈوبتا ہے تو مطالب کا ایک جہان کھل جاتا ہے۔گہرے پانیوں کی سطح کی طرح بعض دفعہ قرآن کریم کی آیات خاموشی سے چلتی ہیں اور دیکھنے والے کو ان کے پیچھے معانی کا جہان نظر نہیں آتا جو ہر آیت کریمہ میں چھپا ہوتا ہے۔چنانچہ پہلی آیت میں بعض عجیب دعاوی کئے گئے ہیں مثلاً آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ تمہارا ان پر رعب طاری ہے بظاہر عجیب بات لگتی ہے کیونکہ ان کو تو اتنا کمزور سمجھا جارہا تھا، اتنا بے طاقت اور بے سہارا خیال کیا جا رہا تھا کہ ہر ایرا غیرا اٹھ کر ان معززین کی ہتک اور گستاخی کا مرتکب ہوتا تھا جو آنحضرت ﷺ کی غلامی کا دم بھرتے تھے۔گلیوں کے ادنی ادنیٰ لونڈوں نے آنحضرت عیﷺ اور آپ کے غلاموں پر پتھر اٹھائے اور زبان طعن دراز کی۔گھروں سے بے وطن کیا اور بے وطن کرنے کے باوجود پیچھا نہ چھوڑا ، مسلمانوں پر شدید حملے کرتے رہے۔بائیں ہمہ یہ کہا جا رہا ہے لَاَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِ هم تم سے تمہارے مخالف اتنا خوف کھاتے ہیں کہ اللہ سے بھی اتنا خوف نہیں کھاتے تمہارے خوف کے مقابل پر خدا کا خوف بھلا دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسا خوف ہے؟ یہ خوف دراصل اسلام کے غلبہ کا خوف ہے، ظاہری جسمانی برتری کا خوف نہیں ہے۔اس طاقت کا خوف ہے جو دلیل کے ساتھ ابھرتی ہے اور دلیل کے ساتھ زندہ ہوتی ہے اور دلیل کے ساتھ چھا جانے کی قوت رکھتی ہے۔چنانچہ ہر صداقت سے دشمن کو ہمیشہ یہی خوف لاحق رہا ہے۔وہ اس قدر خوف کھاتے ہیں کہ اس خوف کے مقابل پر پھر خدا کا خوف بھی