خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 223

خطبات طاہر جلدم 223 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء جماعت قائم ہو چکی تھی وہاں مبلغ بھیجنے کا نام مخالفین کے نزدیک اسرائیل کی ایجنٹی۔ہے۔ہمارے ایک فلسطینی احمدی دوست ابراہیم صاحب جو کبابیر کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے جب حالیہ واقعات سنے کہ ساری دنیا میں شور پڑا ہوا ہے کہ احمدی اسرائیل کے ایجنٹ ہیں تو انہوں نے کہا فلسطین کے علماء کو تو اس بات کا پتہ ہی نہیں، پاکستان عجیب ملک ہے جو ساری دنیا میں شور مچا رہا ہے لیکن یہ بات عربوں کو نہیں بتا رہا۔چنانچہ انہوں نے فلسطین کے تمام چوٹی کے مسلمان رہنماؤں سے ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ یہ ظلم اور اندھیر ہورہا ہے، ہمارے متعلق یہ الزام لگ رہا ہے کہ ہم اسرائیلی فوج میں ملازمت کر رہے ہیں اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔چنانچہ ان مسلم زعماء نے تحریریں دیں اور مہریں لگا کر دیں اور کہا کہ ہم اجازت دیتے ہیں بے شک ان کو جہاں مرضی شائع کرو۔وہ بڑے خدا پرست لوگ ہیں اور حق بات کہنے سے بالکل نہیں گھبرائے۔ان کے خطوط تو بہت لمبے ہیں میں ان کا خلاصہ پڑھ دیتا ہوں۔انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ جماعت احمد یہ ایک مسلمان جماعت ہے، ایک خدا کو مانتی ہے، خاص دینی اور اسلامی امور سے تعلق رکھتی ہے۔سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، بہت شریف اور معزز لوگ ہیں معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے کسی سے کم نہیں ، سب کو محبت اور پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں، دینی تعلیمات کی حفاظت کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے افراد خصائل حمیدہ اور اخلاق حسنہ سے مزین ہیں ، یہ قابل قدر سچی اور محب وطن جماعت ہے اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور عسکری مہمات میں حصہ نہیں لیتی ، قانون کا احترام کرتی ہے اور دنیوی لہو ولعب سے دور رہتی ہے۔یہ ہیں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطین میں بسنے والے مسلمان مشاہیر کے سرٹیفکیٹ اور ان پر عکا اور حیفہ کے شرعی قاضی محمد عبد العزیز ابراہیم ، نمیر حسین میر آف شفا، عامر حمیر درویش چیئرمین لوکل کونسل، محمد وتد ممبر پارلیمنٹ ، محمد خالد مسار و ایڈووکیٹ ، فتح تورانی سیکرٹری مسلم انویٹیشن کمیٹی محمود مصالح ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ، سامی مرعی یو نیورسٹی آف حیفہ کے لیکچرار کے دستخط ہیں۔ہمارے دوست ابراہیم صاحب نے بڑی حکمت سے ہر طبقہ زندگی کے حوالے اکٹھے کر دیئے ہیں۔اس سلسلہ میں ایک دفعہ میں نے بھی ایک کتاب کا جواب دیتے ہوئے جس کا عنوان تھا،