خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 222
خطبات طاہر جلدم 222 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء بیرونی طاقت سے لی ہو۔نہ ہی خدا کے فضل سے جماعت کسی ایسی امداد کی محتاج ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر جماعت کی وہ کیا حرکتیں ہیں اور کیا بے وفائیاں ہیں اور کیا قصے ہیں وہ تو ذرا بتاؤ اور اپنے تاریخ دانوں کے لکھے ہوئے واقعات تو پڑھو کہ جماعت احمد یہ آپ سے کیا بے وفائیاں کرتی رہی ہے۔تم شدھی کے کارزار کو یاد کرو، کشمیر کی وادیوں کو یاد کرو، اس محاذ کو یا دکر و جہاں ہندوستان اور پاکستان کی لڑائیوں میں ہمیشہ احمدیوں نے پاکستان کی خاطر بڑھ چڑھ کر جانیں دی ہیں۔کشمیر کے محاذ کو یاد کرو جہاں چھوٹے بچے اور جوان اور بوڑھے اور زمیندار اور طلبہ ہر قسم کے احمدی اپنے خرچ پر ا کٹھے ہوئے تھے وطن کی خاطر اپنی جان دینے کے لئے ، اس سے کچھ لینے کے لئے نہیں۔کیا یہ ہیں غداریاں ؟ ان سے اسرائیل کو کیا فائدہ پہنچے گا، ایسے لوگوں کی طاقت بڑھانے سے اسرائیل کو کیا ہاتھ آ سکتا ہے۔غدار کون ہیں یہ بات میں آگے چل کر کھولوں گا پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ اصل میں غدار کون ہیں اور وہ کون ہے جو غیروں کی اکنٹی کر رہا ہے۔بہر حال یہ عجیب و غریب اعتراض ہے جو دشمن نے ہمارے خلاف اٹھایا ہوا ہے۔کہتے ہیں احمدیوں نے اسرائیل میں مشن کھولا ہوا ہے اور کسی کی اس بات پر نظر نہیں کہ اسرائیل تو ابھی بناہی نہیں تھا جب فلسطین میں خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کی شاخ قائم ہو چکی تھی اور اب تک قائم ہے اور جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں وہاں ہمارامشن ہے، وہاں ہمارے مبلغین کام کر رہے ہیں اور جماعت کی تربیت کر رہے ہیں۔پھر یہ بھی تو دیکھیں کہ اسرائیل میں دوسرے مسلمانوں کی مساجد بھی تو ہیں جن میں کئی عالم دین مقرر ہیں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ کتنے مسلمان فرقے فلسطین کے اس علاقے میں بستے ہیں جو یہودیوں کے قبضہ میں ہیں اور ہر فرقے کی اپنی مسجدیں ہیں ، اپنے امام ہیں اور اسی کا نام مشن ہے۔تو اگر سارا عالم اسلام ہی ایجنٹ بن گیا تو پھر احمدی بیچاروں کے ایجنٹ بننے سے کیا فرق پڑتا ہے ، تاہم فلسطین میں یہودیوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد جماعت احمدیہ کا کوئی مشن بھی وہاں قائم نہیں ہوا۔یہ بالکل جھوٹ ہے کہ کوئی نیا مشن قائم کیا گیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ۱۹۲۴ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے وہاں مبلغ بھیجے گئے۔پھر ۱۹۲۸ء میں جماعت احمدیہ کا با قاعدہ تبلیغی مشن قائم ہوا اور اسرائیل کی حکومت تو غالبا ۱۹۴۸ء میں قائم ہوئی ہے۔پس ۲۴ سال پہلے سے جس ملک میں احمدی خدا کے فضل سے آباد تھے اور ایک فعال