خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 219
خطبات طاہر جلدم 219 خطبہ جمعہ ۸ مارچ ۱۹۸۵ء جب میدان کارزار گرم تھا اس وقت شورش کا شمیری کو اور کوئی جرنیل نظر نہیں آیا جس کا ہاتھ بٹاتے ہوئے چلنے کا کہتا۔جس کو دہلی کی زمین نے پکارا یہ احمدی ماں کا بیٹا تھا۔یہ احمدی سپوت تھا جو اس وقت اس معاند احمدیت کو میدان کارزار میں نظر آ رہا تھا۔اختر ملک تو بیچارے فوت ہو چکے ہیں مخالفین کو اتنا بھی احساس نہیں ہے کہ ان کے مزار کو پیٹ رہے ہیں حالانکہ وہ تو پاکستان کا ایک عظیم الشان محب وطن جرنیل تھا جس کی قابلیت کا لوہا دنیا مانتی تھی۔رہے جنرل عبدالعلی ملک تو وہ تو ایک ریٹائر ڈ زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن جب وہ اسلامی ملک کی اسلامی حکومت کے ان چیتھڑوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہوں گے کہ وہ انہیں پاکستان کے غدار اور اسلامی ممالک کا دشمن قرار دے رہے ہیں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔یہی عبدالعلی ملک ہیں جو کل تک تمہارے ہیرو تھے۔جب سارے چونڈہ کو خطرہ تھا چونڈہ ہی کو نہیں سارے سیکٹر کو زبر دست خطرہ لاحق تھا اور ان کے بالا جرنیل ان کو حکم دے رہے تھے کہ تم کسی صورت دفاع نہیں کر سکتے پیچھے ہٹ جاؤ مگر یہی جنرل عبدالعلی ملک تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو پھر پاکستانی افواج کو راولپنڈی تک کوئی پناہ نہیں ملے گی اس لئے اگر مرنا ہے تو ہم یہیں مریں گے ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو فوج کے لوگ ہی نہیں بڑے بڑے علماء اور مشائخ بھی بول اٹھے کہ اس کو کہتے ہیں مرد میدان اور یہ ہے جہاد۔چنانچہ الحاج مولانا عرفان رشدی صاحب داعی مجلس علمائے پاکستان اپنی کتاب معرکہ حق و باطل کے صفحہ ۳ے پر لکھتے ہیں : کر رہا تھا غازیوں کی جب کماں عبدالعلی تھا صفوں میں مثل طوفان رواں عبدالعلی کل تک تو عبد العلی مثل طوفان رواں تھا آج تمہاری رگوں میں جھوٹ مثل طوفان جاری ہوگیا ہے۔کوئی احساس نہیں ہے، کوئی ندامت نہیں ہے۔کوئی خیال نہیں ہے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں، کس کے خلاف باتیں بنارہے ہیں۔اب مسئلہ فلسطین کا قصہ سن لیجئے اس کے متعلق تو بہت سارا مواد ہے میرا خیال ہے اس خطبہ میں ختم کرنا مشکل ہوگا۔مگر بنیادی طور پر میں اس مسئلہ کا تعارف کروا دیتا ہوں۔جماعت احمدیہ کے خلاف غداری کے دو قسم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ایک یہ کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی