خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 215
خطبات طاہر جلد۴ 215 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء کی خدمت کا سوال ہو تو ہم حاضر ہیں لیکن جہاں تک کشمیر کی تحریک کا تعلق ہے تو دوسرے سارے مسلمان موجود ہیں وہ جد و جہد کرتے رہیں گے لیکن حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ کو اس طرف بڑی توجہ تھی جب گاؤں میں سے کسی نے نام پیش نہ کیا تو جو آدمی پیغام لے کر گیا تھا اس نے کہا تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کو اس کی کتنی فکر ہے، میں حضور کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اٹھو اور عالم اسلام کی خاطر قربانیاں پیش کرو۔اس وقت وہ جو پیغام لے کر گئے تھے کہتے ہیں کہ ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور کہا میں تو حیران ہوگئی ہوں، میں تو غیرت سے کئی جارہی ہوں کہ خلیفہ وقت کا پیغام ہو اور تم لوگ خاموش بیٹھے ہو۔میرا ایک بیٹا ہے میں اسے پیش کرتی ہوں اور اس دعا کے ساتھ پیش کرتی ہوں کہ خدا اس کو شہید کر دے اور مجھے پھر اس کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہو۔یہ غیر تیں دکھائی تھیں احمدی ماؤں نے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے اس کا اپنی تقریر میں ذکر کیا اور فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔۔دیکھو جب میرے کانوں میں وہ آواز پہنچی تو خدا کی قسم میرے دل سے یہ آواز اٹھی کہ اے خدا! اگر اس کے بیٹے کی شہادت تو نے مقدر کر دی ہے تو میں التجا کرتا ہوں کہ میرے بیٹے لے لے اور اس ماں کا بیٹا سے واپس کر دے۔یہ وہ جذبے تھے جماعت احمدیہ کے افراد کے جن کے ساتھ آزادی کشمیر کا جہاد کیا گیا ہے تم لوگ آج آئے ہو اور باتیں کر رہے ہو۔تمہارے بیٹے اس وقت کہاں تھے، کہاں تھے عطاء اللہ شاہ بخاری کے بیٹے ، کہاں تھے مولوی مودودی کے بیٹے اور ان کے لگے بندھے۔یہ تو جہاد کے میدانوں سے کوسوں دور بیٹھے تھے۔میدان جہاد میں نکلتے ہوئے ان کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ نے جہاد کا صرف اعلان کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ عملاً اپنے بیٹے محاذ کشمیر پر بھیج دیئے اور انہوں نے محاذ جنگ پر انتہائی تکلیفیں اٹھائیں۔کوئی پچھوں کا مریض ہوا، کوئی فاقوں کی وجہ سے نڈھال ہو گیا۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے شدید بیماریوں کے عذر پر بھی ان کو واپس نہیں آنے دیا۔مجھے یاد ہے بعض بچوں نے انتہائی تکلیف کا اظہار کیا ان کا بہت برا حال تھا ، حالات بڑے نامساعد تھے، بعض کو خون کی پیچیش لگی ہوئی تھی۔انہوں نے لکھا کہ ہمیں واپس آنے کی اجازت دیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ نہیں تم جس حالت میں ہو تم نے وہیں رہنا ہے اور ملک وملت کی خدمت کرنی ہے۔چنانچہ اس وقت ان حالات میں جماعت احمدیہ کی ان بے لوث خدمات کو دیکھ کر