خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 139
خطبات طاہر جلدم 139 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء زندگی، اپنا سارا وجود اس جہاد کی پیروی میں خرچ کیا اور تمام جماعت کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ملکہ وکٹوریہ کی تعریف اور اسے رحمت کا سایہ قرار دینے کا جو علماء الزام لگاتے ہیں۔کون ہے ان علماء میں سے جن کے نام میں نے پڑھ کر سنائے ہیں یا کوئی اور مخالف عالم جس نے ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کا پیغام پہنچایا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی جرات کے ساتھ عیسائیت پر کھلی تنقید کرتے ہوئے اور اسے ایک جھوٹا اور ایک مردہ مذہب قرار دیتے ہوئے اس وقت کی ملکہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔جس ملکہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا ایک طرف اس کے انصاف کی تعریف فرمائی تو دوسری طرف اسے کھلم کھلا اسلام کی طرف آنے کی دعوت دی۔اب دیکھئے دیگر علماء کا کیا کر دار تھاوہ ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیتے تھے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عارف باللہ نگاہ نے اسے دارالاسلام کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ دار الحرب سمجھا کیونکہ آپ جہاد کا حقیقی عرفان رکھتے تھے، آپ جانتے تھے کہ جہاد کس کو کہتے ہیں کیونکہ جہاں جہاد فرض ہے وہ دارالاسلام نہیں ہوسکتا وہ تو دارالحرب ہے لیکن کن معنوں میں؟ اس کی آپ خود تشریح فرماتے ہیں: یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہرگز بریکار نہ بیٹھیں۔مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو۔جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہئے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم اور میرے قلم کو ذوالفقارعلی فرمایا ہے۔اس میں یہی ستر ہے کہ یہ زمانہ جنگ وجدل کا نہیں بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۵۱) پھر آپ ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 66 ”اے معز ملکہ ! مجھے تعجب ہے کہ تو باوجود کمال فضل اور علم و فراست کے دین اسلام کی منکر ہے ( کیا یہ خوشامدی کی زبان ہوا کرتی ہے اگر تم خوشامدی نہیں تھے تو تمہیں ایسے الفاظ کی تو فیق کیوں نہ ملی اور جس