خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد۴ 138 خطبه جمعه ۵ ار فروری ۱۹۸۵ء جلالتہ الملک شاہ فیصل نے ۱۳۸۵ ہجری حج کے موقع پر رابطہ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ کے اجتماع میں فرمایا: ”اے معزز بھائیو! تم سب کو جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کرنے کے لئے بلایا گیا ہے۔جہاد صرف بندوق اٹھانے یا تلوار لہرانے کا نام نہیں بلکہ جہاد تو اللہ کی کتاب اور رسول مقبول ﷺ کی سنت کی طرف دعوت دینے ، ان پر عمل پیرا ہونے اور ہر قسم کی مشکلات ، دقتوں اور تکالیف کے باوجود استقلال سے اس پر قائم رہنے کا نام ہے۔( ام القری مکہ معظمه ۲۴ را پریل ۱۹۶۵ء) پھر فرماتے ہیں: ان ( غیر مسلم حکومتوں میں رہنے والے مسلمانوں ) پر جو خدمت دین اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اتباع واجب ہے انہیں اسے ادا کرنا چاہئے۔ہم ان بھائیوں کو ہرگز یہ نہیں کہتے کہ اپنی حکومتوں کے نظام کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور بغاوت کریں۔ہاں انہیں باہمی طور پر اپنے عقائد اور نیتوں کی حد تک اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سنت نبوی کو حکم ٹھہرانا چاہئے نیز جو حکومتیں انہیں امن دیتی ہیں انہیں ان سے صلح سے رہنا چاہئے وہ اپنے ممالک میں نظام کو توڑنے والے یا تخریبی عنصر ہر گز نہ بنیں“ (ام القری مکہ معظمه ۲۴ / اپریل ۱۹۶۵ء) پس وہ علماء کہاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جہاد کا منکر اور منسوخ کرنے والے اور نعوذ بالله من ذالک انگریزوں کے خوشامدی اور ان کی خاطر ایک فساد کھڑا کرنے والے بتاتے ہیں۔لیکن جو باتیں آپ نے بیان فرمائیں وہ ساری باتیں آپ کے زمانہ کے علماء اس وقت کہہ رہے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو بات دوسروں سے کہتے تھے وہی بات اپنوں سے بھی کہتے تھے اور جو انگریزوں سے کہتے تھے وہی اپنی جماعت کو بھی مخاطب کر کے کہتے تھے۔آپ کی ذات یا جماعت میں کوئی دوغلا پن یا کوئی دورنگی نہیں تھی اور جس جہاد کا اعلان کرتے تھے اس پر قائم بھی تھے اور جہاد کے اس تصور پر صرف زبانی جمع خرچ نہیں تھا بلکہ آپ نے اپنی ساری