خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 122
خطبات طاہر جلدم 122 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء ہے کہ وہ زندہ خون کہاں گیا، اس اسلامی حمیت و غیرت پر کیا بنی کہ آج تم بالکل الٹ باتیں کر رہے ہو۔عیسائیت کے مقابل پر اسلام کے اس بطل جلیل کے خلاف آج تم یہ الزام لگا رہے ہو کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے، عیسائیت نے اپنے مفاد کی خاطر اس پودے کی آبیاری کی تھی۔کہاں گئیں تمہاری وہ غیر تیں! کہاں گیا تمہارا وہ زندہ خون بھی غور تو کرو اور سوچو تو سہی کہ یہ خون کس نے چوس لیا ہے۔بسا اوقات ایک Vampire یعنی ایسی چمگادڑ کے قصے سننے میں آتے ہیں جو سوتے ہوئے انسان کی رگوں کے ساتھ چمٹ کر اس کا خون چوس لیا کرتی ہے، وہ انسان کی گردن میں اپنے پنجے پیوست کر کے اپنے دانت اس کی رگ جان میں گاڑ کر انسان کا خون چوس لیتی ہے۔تو وہ کون سی چمگادڑ ہے وہ کون سی ظالم Vampire ہے جس نے آج تمہاری رگوں میں اپنے دانت گاڑے ہوئے ہیں اور اسلامی حمیت کا خون چوس رہی ہے اور تمہیں اس کا احساس ہی نہیں ہو رہا۔اگر آج بھی تمہاری رگوں میں اسلامی غیرت و حمیت کا زندہ خون دوڑ رہا ہوتا تو جیسا کہ مولانا ابو الکلام آزاد نے فرمایا ہے خدا کی قسم تم حضرت مرزا صاحب پر لعنتیں بھیجنے کی بجائے ہمیشہ سلامتی بھیجتے چلے جاتے تم ہمیشہ داد تحسین پیش کرتے چلے جاتے اسلام کے اس بطل جلیل کو جس نے اپنی جان ، اپنی عزت ، اپنے مال ، اپنی اولاد، اپنے ماں باپ سب کچھ اسلام کے نام پر قربان کر دیا اور صرف ایک امید لے کر اٹھا صرف ایک امید لے کر جیا اور صرف ایک امید کے پورا ہونے کی آرزو لئے دنیا سے رخصت ہوا کہ کاش دنیا سے عیسائیت کی تعلیم ہمیشہ کے لئے مٹادی جائے۔ایک ہی تعلیم ہو اور وہ میرے آقا و مولا محمدمصطفی ﷺ کی تعلیم ہو اور ایک ہی کتاب ہو جو میرے آقا و مولا محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب ہو اور ایک ہی رسول ہو جو عزت سے یاد کیا جائے یعنی محمد عربی۔مگر آج یہ تمہارے نزدیک اسلام کا سب سے بڑا غدار ہے اور وہ تم ہاں تم جو مسلمانوں کی رگ حمیت کا خون چوس رہے ہو بزعم خویش اسلام کے بطل جلیل بن کر دنیا کے سامنے پیش ہورہے ہو۔خدا کی قسم تمہارا یہ دھوکا نہیں چلے گا ہم تمہارا دھوکا نہیں چلنے دیں گے۔ہم دنیا کو دکھا کر چھوڑیں گے کہ غدار کون ہے اور اسلام کا مجاہد اول کون !