خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 121
خطبات طاہر جلدم 121 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء ایک اور تحریر بھی اس ضمن میں قابل ذکر ہے جو ایک مشہور مسلمان عالم دین اور سیاسی شخصیت کی ہے، اسے میں پڑھ کر سناتا ہوں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا مقصد کیا تھا اور اس کو آپ نے کس طریق پر حاصل کیا۔یہ تحریر مولانا ابوالکلام آزاد کی ہے وہ کہتے ہیں: وو۔۔۔۔۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرضِ مدافعت ادا کیا اور ایسالٹریچر یادگار چھوڑ ا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا“۔(اخبار وکیل امرتسر جون ۱۹۰۸۔اخبار ملت لاہور 7 جنوری 1911 ء ) پس آج میں مسلمانان پاکستان کو اور مسلمانان عالم کو مولانا ابوالکلام آزاد کے اس حسن ظن کی یاد دلاتا ہوں اور میں تمہیں یہ یاد دلاتا ہوں کہ یہ تمہارا ہی ایک بہت بڑا رہنما ہے جس نے تم سے یہ حسن ظن رکھا تھا اور اس کا برملا اظہار کیا تھا اور یہ سمجھ کر کیا تھا کہ اگر تمہاری رگوں میں اسلام کی حمیت اور غیرت موجود ہے اور اگر تمہاری رگوں میں اسلام کی حمایت کا زندہ خون دوڑ رہا ہے تو جب تک یہ خون زندہ رہے گا اس وقت تک حضرت مرزا صاحب کی اسلام کی خدمات کے اعتراف کرنے پر تم اپنے آپ کو مجبور پاؤ گے۔تمہاری زبانیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دی جائینگی کہ اسلام کے دفاع میں حضرت مرزا صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں ویسی خدمات کسی اور جگہ تمہیں نظر نہیں آئیں گی۔جب تک تمہارا حمایت اسلام کا جذبہ تمہارے شعار قومی کا عنوان رہے گا اس وقت تک مولا نا ابوالکلام آزاد کے نزدیک تم حضرت مرزا صاحب کے متعلق یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گے کہ مسلمانوں کی طرف سے عیسائیت کے خلاف جو کامیاب جہاد کیا گیا ہے وہ قادیان میں پیدا ہونے والے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا ہے اور صف اول میں رہ کر کیا ہے۔آپ ان مجاہدین اسلام میں سے ہیں جو سب سے آگے بڑھ کر دشمنانِ اسلام پر حملہ کرنے والے تھے۔پس میں اپنے مسلمان بھائیوں سے پوچھتا ہوں اور ہر احمدی ان سے پوچھنے کا یہ حق رکھتا