خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 113
خطبات طاہر جلدم 113 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء ہے اور آقا کے حقوق غصب کر کے اس پر حکومت کرنے لگتا ہے۔وہ طاقتیں جو ملک کی بقاء کے تحفظ کی خاطر قائم کی جاتی ہیں اور جو اہل ملک کے ہاتھوں سے روٹی کھاتی ہیں اور ان کے تحفظ کی قسمیں کھا کر عہدے حاصل کرتی ہیں بدقسمتی سے بعض ملکوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کھاتی تو اپنے ملک کی روٹی ہیں لیکن آقا بن کر کھاتی ہیں نو کر بن کر نہیں کھاتیں اور اپنے آقا یعنی اہل ملک کو اپنا غلام بنا لیتی ہیں۔دنیا میں ایسا تو ہوتارہتا ہے بالکل اسی طرح یہ بھی کوئی تعجب کی بات نہیں کہ احمدیت جو اسلام کے دفاع کی خاطر ایک عظیم الشان تحریک ہے جسے خدا نے خود قائم فرمایا تھا اسے ایک بالکل برعکس صورت میں پیش کیا جائے اور پیش بھی ان لوگوں کی طرف سے کیا جائے در حقیقت جو خود اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ آلہ کار بنے رہے ہیں اور آج بھی آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔چنانچہ کسی کو اگر میری باتوں پر یقین نہ آئے اور میری باتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو وہ خود غیر احمدی علماء کے اقرار سے معلوم کر سکتا ہے کہ کون لوگ در حقیقت مختلف وقتوں میں استعماری طاقتوں کا آلہ کار بنتے آئے اور اس کا اعتراف کرتے رہے اور یہی نہیں بلکہ ملکی عدالتوں کی زبان سے سنہیں کہ ان کے نزدیک وہ کون تھا جو اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں ہمیشہ آلہ کار بنتا رہا ہے اور آج بھی بن رہا ہے مثلاً مجلس احرار ہے یہ دیو بندی اور اہل حدیث کا ایک ملغوبہ ہے جو ہمیشہ سے جماعت احمد یہ کے خلاف آلہ کار بنی رہی ہے اور ہمیشہ ہی غیروں کے ہاتھ میں کھیلتی رہی ہے۔اسلام دشمن اور پاکستان دشمن طاقتوں نے ہمیشہ اس کو استعمال کیا ہے۔1935ء میں جب مسجد شہید گنج کے موقع پر لاکھوں مسلمان سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے اور لاہور کی گلیوں میں شہیدوں کا خون بہہ رہا تھا اس وقت یہی احرار کا ٹولہ تھا جس نے مسلمانوں کے مفادات کو اپنے کانگرسی آقاؤں کی خاطر بیچ دیا۔یہ وہی احرار تھے جنہوں نے انگریز گورنر کے ہاتھ پر مسلمانوں کے ایمان اور ان کی عزت کا سودا کیا اور عملاً مسجد ان کے ہاتھ پر بیچ دی اور پھر بڑی بے غیرتی کے ساتھ اخباروں میں یہ بیان دیا کہ مسجد کے شہید ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ہم غلام قوم ہیں غلام قوموں کی مسجدیں کیسے آزاد ہوسکتی ہیں اس لئے کیا فرق پڑتا ہے اگر ہماری ایک مسجد غلام ہوگئی، ہم تو وہ قوم ہیں جو ساری کی ساری غلام ہے اس لئے کوئی فکر نہیں ،سکھوں کو لینے دو اور اسے منہدم کرنے دو بعد میں آپ ہی واپس کر دیں گے۔چنانچہ ان لوگوں کی یہ وہ تحریرات ہیں جو چھپی ہوئی