خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 112

خطبات طاہر جلدم 112 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء چودھری سلیم اختر نے صدر مملکت سے اپیل کی ہے کہ مرزائیوں کے تمام لٹریچر کو خلاف قانون قرار دے کر ضبط کرنے کے بعد نذر آتش کر دیا جائے اور آئندہ اس کی اشاعت پر سخت ترین سزادی جائے۔(روز نامہ جنگ لاہور یکم مئی ۱۹۸۴ء) چنانچہ وہ تو صدرمملکت کو مبارک بادیں دے رہے ہیں میں سلیم اختر کو مبارک باد دیتا ہوں کہ صدر مملکت نے آپ کی خواہش اور احترام کے عین مطابق یہ کام کرنا شروع کر دیا ہے اور بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔کثرت کے ساتھ احمد یہ لٹریچر ضبط بھی ہو رہا ہے اور نذرآتش بھی کیا جارہا ہے اور کثرت کے ساتھ ان احمدیوں کو جن کی تحویل سے یہ لٹریچر نکلتا ہے، کوتوال کے حوالے کیا جاتا ہے اور جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور صرف یہی نہیں کہ ضبط ہونے کے بعد اگر یہ لٹریچر ان کے قبضہ سے نکلے تو پھر ان کو قید کیا جاتا ہے بلکہ ضبط ہونے سے پہلے بھی اگر وہ لٹریچر ان کے قبضے میں ہو تو اس جرم میں بھی ان کو قید کیا جاتا ہے کہ یہ لٹریچر ہمارے ضبط کرنے سے پہلے بھی تمہارے پاس کیوں تھا۔تو سلیم اختر صاحب کے تصور سے بھی آگے بڑھ کر حکومت پاکستان بزعم خویش اسلام کی اور عیسائیوں کے اعتراف کے مطابق عیسائیت کی عظیم الشان خدمت میں مصروف ہے۔پس یہ الزام بالبداہت غلط ہے کہ احمدیت نعوذ بالله من ذالک انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے جو انگریزی حکومت نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر لگایا تھا۔ظاہر ہے کہ استعماری طاقتوں کے مفادات کا تحفظ تو لوگ کر رہے ہیں جو عیسائیت کو فروغ دے رہے ہیں، جو عیسائیت کے مفاد کے لئے جماعت احمدیہ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور جو ساری دنیا میں یہ اشتہار دے رہے ہیں کہ یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا اس لئے ہم اسے اکھاڑنے کے لئے مامور کئے گئے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو فی الحقیقت عیسائیت کے مفاد کی حفاظت کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں وہ کل بھی یہی لوگ تھے جو احمدیت پر الزام لگا رہے ہیں اور آج بھی یہی لوگ ہیں۔بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک چور چوری کی سزا سے بچنے کے لئے کوتوال کا نام لے دیا کرتا ہے اور پکڑے جانے کے خوف سے کوتوال ہی کو ڈانتا ہے اور اسی کو چور بنایا کرتا ہے۔چنانچہ اردو میں یہ محاورہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک نوکر آقا بن جاتا