خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد۴ 98 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء صلیب گاڑ دینی ہے۔اور بعض آواز میں تو یہاں تک بلند ہو رہی تھیں کہ افریقہ سے چلیں گے اور مکہ تک پہنچیں گے اور اس وقت تک چین نہیں لیں گے جب تک صلیب کا جھنڈ ا مسجد حرام پر گاڑ نہ دیں۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سوا کون تھا جو ان کو دجال قرار دے رہا تھا ، وہ کون تھا جس نے عیسائیت کا قلع قمع کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگارکھی تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جو عیسائیت کے خلاف جس طرح بھی ممکن ہو سکا سینہ سپر ہو گئے ور نہ علماء میں سے تو کئی عیسائی ہوکر اور اسلام کو ترک کر کے عیسائیت کی تائید میں اور حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے خلاف نہایت ہی نا پاک حملے کر رہے تھے۔یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جو عیسائیت پر کاری ضربیں لگا رہے تھے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: خوب یاد رکھو کہ بجز موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آسکتی سواس سے فائدہ کیا کہ برخلاف تعلیم قرآن اُس کو زندہ سمجھا جائے اُس کو مرنے دوتا یہ دین زندہ ہو (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۹اص ۱۷) اسی طرح آپ نے سالانہ جلسہ قادیان میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: وفات مسیح اور حیات اسلام یہ دونوں مقاصد باہم بہت بڑا تعلق رکھتے ہیں۔اور وفات مسیح کا مسئلہ اس زمانہ میں حیات اسلام کے لئے ضروری ہو گیا ہے“ پھر فرماتے ہیں: حیات مسیح سے جو فتنہ پیدا ہوا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے۔حضرت عیسی" کی حیات اوائل میں تو صرف ایک غلطی کا رنگ رکھتی تھی مگر آج یہ غلطی ایک اثر دھا بن گئی ہے جو اسلام کو نگلنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔اسلام تنزل کی حالت میں ہے اور عیسائیت کا یہی ہتھیار حیات مسیح ہے جس کو لے کر وہ اسلام پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کی ذریت عیسائیوں کا شکار ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاوے۔( ملفوظات جلد چہارم ص ۶۳۲۶۲۶)