خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 97
خطبات طاہر جلدم 97 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء نہیں ہوتا۔مشرق سے مغرب تک 24 گھنٹے میں ایک بھی لمحہ ایسا نہیں آتا تھا جب کہ اُن پر سورج غروب ہورہا ہو۔سیاسی چالوں میں ایسی ہوشیار قوم کی طرف ایسا لغو خیال منسوب کرنا ایک ایسی بات ہے جس کا عقل سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرما رہے تھے اور دنیا کو کس زبان میں مخاطب کر رہے تھے اور اہل اسلام کو کس طرح جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہے تھے۔ایک طرف لندن سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ انگریزوں کے مفادات اس بات سے وابستہ ہیں کہ ہندوستان میں عیسائیت کو جتنی جلد ہو سکے پھیلا دیا جائے تو دوسری طرف قادیان کی ایک چھوٹی سے بستی سے خفتگان اہل اسلام کو جگانے کے لئے یہ صور پھونکا جارہا تھا کہ : ”دیکھواے غافلود یکھو! کہ اسلامی عمارت کو مسمار کرنے کے لئے کس درجہ کی یہ کوشش کر رہے ہیں اور کس کثرت سے ایسے وسائل مہیا کئے گئے ہیں اور اُن کے پھیلانے میں اپنی جانوں کو بھی خطرہ میں ڈال کر اور اپنے مال کو پانی کی طرح بہا کر وہ کوششیں کی ہیں کہ انسانی طاقتوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے اور پاکیزگی کے برخلاف منصوبے اس راہ میں ختم کئے گئے اور سچائی اور ایمانداری کے اُڑانے کے لئے طرح طرح کی سرنگیں طیار کی گئیں اور اسلام کے مٹا دینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام بار یک باتیں نہایت درجہ کی جان کا ہی سے پیدا کی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا اس بات پر قطع اور یقین کرنا چاہئے کہ وہ مسیح دجال جو گر جا سے نکلنے والا ہے یہی لوگ ہیں جن کے سحر کے مقابل پر معجزہ کی ضرورت تھی۔اور اگر انکار ہے تو پھر زمانہ گزشتہ کے دجالین میں سے ان کی نظیر پیش کرو۔(ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۵-۳۶۶) یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے عیسائی مذہب کو دجالیت قرار دیا اور عیسائیت پر بڑے شدید حملے کئے اور یہ اُس زمانہ کی بات ہے جب انگلستان سے یہ آواز اُٹھ رہی تھی کہ صرف ہندوستان ہی میں نہیں ہم نے مشرق سے مغرب تک