خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1025
خطبات طاہر جلدم 1025 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء کچھ جنازہ ہائے غائب کے متعلق درخواستیں آئی ہیں۔خاص طور پر ایک دو جو فوت شدگان ہیں ان کے لئے دل میں یہی تحریک ہوئی کہ جمعہ پر ہی ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔ان کے ساتھ باقی بھی شامل ہو جائیں گے۔سب سے پہلے مکرم چوہدری غلام حیدر صاحب صدر جماعت چک ۵۶ ضلع بہاولپور کی وفات کا اعلان کرتا ہوں انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ کو یہ نمایاں امتیاز حاصل ہے کہ خدا کے فضل سے دو بیٹے مربی ہیں۔ایک پاکستان میں کام کر رہے ہیں اور ایک نا نا میں کام کر رہے ہیں اور بہت ہی غیر معمولی اخلاص کا تعلق رکھنے والے بزرگ تھے۔سادہ طبیعت لیکن نہایت اچھے مبلغ اور سارے اپنے رشتہ داروں میں احمدیت پھیلانے کا یہی موجب بنے خدا کے فضل کے ساتھ۔ان کے ایک بیٹے ہیں ناصر احمد صاحب ملہی وہ غانا میں ہیں۔وہ بھی شامل نہیں ہو سکے۔اس لئے ان کی وجہ سے خاص طور پر مجھے تحریک ہوئی کہ نماز جمعہ کے ساتھ ہی ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے۔دوسرا جنازہ ہے بشارت محمود صاحب مبلغ سلسلہ مغربی جرمنی کے چھوٹے بھائی کا جو عین جوانی کے عالم میں ایک حادثے کا شکار ہو گئے۔تیسرا چوہدری محمد صادق صاحب جھنگ۔چوتھا مکرمہ وزیر بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم چوہدری رشید احمد خان صاحب ہے۔یہ ہمارے ڈاکٹر صلاح الدین صاحب شمس جو منیر الدین شمس صاحب کے بھائی ہیں ان کی خوشدامنہ تھیں۔پھر ہیں بشری صاحبہ بنت نذیر احمد صاحب منگلی۔یہ بھی عین جوانی کے عالم میں ایک چھوٹی بچی چھوڑ کر وفات پاگئیں۔اہلیہ حکیم محمد دین صاحب قادیان مکرم ماسٹر امیر عالم صاحب شیخو پورہ جن کے الفضل میں علمی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔جماعت کے بہت سے لوگ ان سے واقف ہوں گے۔پھر ہیں محمد سرور صاحب وہاڑی کی والدہ ان کا نام نہیں لکھا ہوا۔اور آخر پر مکرم ومحترم صاحبزادہ احمد لطیف ابن مکرم و محترم صاحبزادہ محمد طیب صاحب یہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے پوتے تھے اور بہت ہی مخلص فدائی ، جماعت کے