خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1020
خطبات طاہر جلدم 1020 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء ہندوؤں میں واپس چلے جائیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ، کوئی ان کو سنبھالنے والا نہیں۔اس لئے ہندوستان کی وقف جدید کو میں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ باقی علاقوں کے علاوہ پرانے دھی کے علاقوں کی طرف بھی توجہ کریں۔ہندوستان کے لئے مشکل یہ ہے کہ ایک تو وہاں واقفین کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور نسبت کے لحاظ سے جماعت کی تعداد ہندوستان کے مقابل پر بہت ہی تھوڑی ہے۔پیچھے ایک صحافی دوست وہاں سے آئے تھے۔انہوں نے اندازہ بتایا کہ ہمارے اندازے کے مطابق تین لاکھ احمدی ہیں۔تو تین لاکھ ہندوستان کے ستر اسی کروڑ کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔دوسرے جماعت میں جو متمول طبقہ ہے الا ماشاء اللہ اس میں چندوں کے اعتبار سے کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔وہاں کے بعض علاقے جن کے نام لینے مناسب نہیں چندوں میں بہت آگے تھے لیکن اب کچھ ست پڑ چکے ہیں۔مالی لحاظ سے بھی وہاں کمزوری ہے اور کارکنان کے لحاظ سے بھی کمزوری ہے۔مالی اعتبار سے تو میں نے ان کو پیغام بھیجا ہے کہ آپ تبلیغ کا پروگرام بنائیں اور اس میں کسی قسم کی کنجوسی نہ دکھا ئیں یعنی اپنے ارادے کو بلند رکھیں ، اپنے پروگرام کو وسیع کریں۔جہاں تک روپے کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو باہر سے وہ روپیہ ملنا شروع ہو جائے گا۔جو بھی سلسلے کی ضرورت ہے وہ اللہ تعالیٰ خود پوری کر دیتا ہے۔جہاں تک کارکنان کا تعلق ہے یہ مسئلہ ایسا ہے کہ خود ہندوستان کو ہی نئے کارکنان پیدا کرنے پڑیں گے اور اس کے لئے ان کو توجہ چاہئے کہ دورہ کریں، قادیان کے ناظر صاحبان دورے کریں، ضروری نہیں کہ وقف جدید ہی کا ناظر ہو اور نو جوانوں کو توجہ دلائیں، وقف کی تحریک کریں۔ڈاکٹر ز ، ٹیچر ز یعنی اساتذہ اور خاص طور پر جور بیٹائر ہوئے ہوئے لوگ ہیں ان کو اس تحریک میں شامل کریں تو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ عام لوگوں میں تبلیغ کے لئے جتنا علم ضروری ہے اس علم کے اچھے کارکنان مہیا ہو جائیں گے۔اس غرض سے کہ ہندوستان میں وقف جدید کی تحریک کو مضبوط کیا جائے اور اس غرض سے کہ پاکستان میں بھی جہاں کام پھیل رہا ہے اور نئی ضرورتیں پیدا ہوئی ہیں اس کام کو تقویت دی جائے۔میں اس سال وقف جدید کی مالی تحریک کو پاکستان اور ہندوستان میں محدود رکھنے کی بجائے ساری دنیا پر وسیع کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔اس سے پہلے وقف جدید صرف پاکستان تک محدود تھی اور