خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1007 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1007

خطبات طاہر جلدم 1007 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء کی حالت میں حمد کرنا اور حمد کا معراج ہے سجود کی حالت میں حمد کرنا۔پس اپنے رکوع اور سجود کو حد سے بھر دیں، اپنے سارے وجود کو حمد ربّ رحمن سے بھر دیں یہاں تک کہ ساری جماعت خدا کے حضور حمید الرحمن بن کر دست بستہ کھڑی ہو جائے۔یہ حالت اگر آپ پر طاری ہوگئی جیسا کہ اس خوش خبری میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے نزدیک انشاء اللہ اگرا بھی پوری طرح نہیں تو کل ضرور طاری ہو جائے گی۔تو پھر میں آپ کو یہ خوش خبری دیتا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف س أَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ خدا کی قسم ! تم غالب رہو گے ، خدا کے قسم تم غالب رہو گے کیونکہ خدا کے حمید الرحمن بندوں پر کوئی دنیا کی چیز غالب نہیں آسکتی۔آخر پر میں ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں۔آپ کو پتہ ہے کہ جلسہ سالانہ مرکزیہ کے ایام قریب آئے ہیں اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ایسا دشمن جو دنیا میں رپ اعلیٰ بنے کا عملاً دعوی کر رہا ہے، ایسا دشمن جس نے فساد کی نیت سے دنیا میں علو اختیار کر لیا ہے وہ جماعت احمدیہ کی ہر نیک تحریک کی راہ میں حائل ہو رہا ہے اور بڑی شان کے ساتھ دعوے کر رہا ہے گویا کہ ہم نعوذ بالله من ذالک اس کے بندے ہیں اور ہمارا مرنا جینا اس کے ہاتھ میں ہے۔اسی علو اور اسی تکبر کے نتیجے میں گزشتہ سال کی طرح امسال بھی جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جو 26 ( دسمبر ) کو ہونا تھا۔تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہم اس دن کو اپنا احتجاج کا دن بنائیں۔تمام دنیا میں سب احمدی احتجاج کریں مگر کوئی ایک لفظ بھی احتجاج کا غیر اللہ کے سامنے نہ ہو اس دن روزہ رکھا جائے اس دن عبادتیں کی جائیں۔دن کو بھی عبادت کی جائے رات کو بھی عبادت کی جائے اور تمام تر احتجاج رپ اعلیٰ سے کیا جائے۔رکوع میں بھی احتجاج کیا جائے اور سجدوں میں بھی احتجاج کیا جائے اور کہا جائے اے ہمارے رب ! ہمارے نزدیک تو ساری عظمتیں تیری ہی ہیں اور تیرے سوا غیر اللہ سے ہم عظمتوں کی کلی نفی کرتے ہیں۔ایک کوڑی کی بھی ہمیں پرواہ نہیں دنیا کی عظمتوں کی اور ہمارے نزدیک صرف تو اعلیٰ ہے اور ہر غیر تیرا جو اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جھوٹا ہے اور لازماً نا کام اور نامراد ہونے والا ہے۔پس تیرے حضور ہم ان دنیا کی عظمتوں کا دعوی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور تیرے حضور رت اعلیٰ کا دعویٰ کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک تو سوائے تیرے نہ کسی کو عظمت حاصل ہے اور نہ کسی کو علو