خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1006 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1006

خطبات طاہر جلد۴ 1006 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء تہجد کی نماز شروع ہوتے ہی وہ نماز گویا میں نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ میں اور ڈاکٹر حمید الرحمن ایک وجود بن کر پڑھ رہے تھے اور کوئی تفریق نہیں تھی۔یہ کوئی آنافا نا واقعہ نہیں ہوا کہ آیا اور گزر گیا بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تہجد کے دوران جب میں سلام پھیرتا تھا تو یہ تصور غائب ہو جا تا تھا اور جب دوبارہ شروع کرتا تھا تو بغیر شعور کے پتہ نہیں لگتا تھا کہ کس وقت یہ واقعہ شروع ہوا ہے اچانک میری Personality میرا وجود جو خدا کو مخاطب کر رہا تھا وہ حمید الرحمن تھا اور جیسے حلول کر جاتی ہے روح اس طرح میرے اندر حمید الرحمن کی روح گویا حلول کر گئی اور مجھے اس پر تعجب نہیں ہوا اور نماز کے دوران بالکل احساس نہیں ہوا کہ کوئی عجیب واقعہ گزر رہا ہے بالکل نارمل طریقے سے جس طرح وہ ڈاکٹر حمید الرحمن کھڑے ہوتے ہوں گے نماز کے وقت اور اپنے متعلق سوچ رہے ہیں کہ میں حمید الرحمن ہوں جب خیال آتا ہے وہی کیفیت تھی لیکن ساتھ یہ بھی کہ میں بھی ہوں اور اس عجیب امتزاج پر تعجب کوئی نہیں تھا اور جب نوافل کے درمیان وقفہ پڑتا تھا تو اس طرف دماغ بھی نہیں جاتا تھا اس وقت یعنی اس وقت بھی احساس نہیں ہوا کہ یہ کیا واقعہ ہو رہا ہے یہاں تک کہ قریباً ایک گھنٹہ تک مسلسل یہی کیفیت رہی ہے اور جب یہ کیفیت گئی ہے تو پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا میرے ساتھ۔اس پر جب میں نے غور کیا تو ایک تو اس میں بہر حال جس وجود کو خدا تعالیٰ نے اس خوشخبری کے لئے چنا ہے اس کے لئے بھی بہت بڑی خوش خبری ہے لیکن میں نے غور کیا تو مجھے پتا چلا کہ اس میں ایک خوشخبری بھی بہت عظیم الشان ہے اور نجات کی راہ بھی ہمیں دکھائی گئی ہے۔خلیفہ وقت کے وجود میں دراصل ساری جماعت دکھائی جاتی ہے اور خوشخبری یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کوششوں کو قبول فرمایا جو بار بار نمازوں کی اہمیت ذہن نشین کرانے کے لئے میں نے کیں اور یہ خوشخبری تھی کہ مبارک ہو جماعت حمید الرحمن بن گئی ہے۔وہ اپنے رحمن خدا کی حمد کے گیت گا رہی ہے کل عالم میں یہاں تک کہ گویا حمید الرحمن اور جماعت کا وجود ایک ہی ہو چکا ہے اور دوسری طرف ایک ترقی کی راہ دکھائی گئی ہے اور اس زمانہ کی ساری مشکلات کا حل بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم حمید الرحمن ہو جاؤ تو تمہیں پھر دنیا میں کسی اور چیز کی پرواہ نہیں رہے گی اور چونکہ حمد کا مضمون عظیم اور اعلیٰ کی صفات کے ما بین باندھا گیا ہے اس لئے مجھے یہ تعبیر سمجھ آئی اور یہ خطبہ میں نے اسی تعبیر کی رو سے آج دیا ہے کہ حمد کا معراج ہے رب عظیم کے گن گانا اور حمد کا معراج ہے رب اعلیٰ کے گن گانا اور حمد کا معراج ہے رکوع