خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 78

خطبات طاہر جلد۳ 78 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء تو دیکھئے جو چھوٹی سی بدی بظاہر آپ کو نظر آتی تھی اور جس سے عورتیں بڑی لذتیں حاصل کرتیں ہیں کہ ایک دوسرے کی برائی بیان کرنے میں کیا فرق پڑتا ہے بڑا مزا آتا ہے، ہم نے دیکھا کہ فلاں نے یہ گندی حرکت کی چلولوگوں کو بتائیں تم تو سمجھتے ہو کہ بڑی نیک عورت ہے، ہمیں اندر سے یہ حال ہے کہتے ہیں ” پھولو تے پتہ لگ دا ائے یہ باتیں بھی کہتی ہیں کہ بی بی بس جان ہی نہیں پھولو گے تے پتہ لگے گا۔تو تجسس یعنی پھولنا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر فرضی باتیں بھی بیان کرنا شروع کر دیتی ہیں پھر بے حیائیاں سوسائٹی میں عام ہونے لگ جاتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں اچھا جب فلاں صاحب جو اتنے بزرگ نظر آتے ہیں اندر سے ان کا یہ حال ہے تو ہم تو اتنے بزرگ نظر بھی نہیں آتے ہمارا باہر سے بھی یہ حال ہو جانا چاہئے تو پھر وہ اندر کے حال باہر نکلنے شروع ہو جاتے ہیں باہر کے حال لوگوں کو مزید تر غیب دیتے ہیں سوسائٹی میں بے حیائیاں پھیلتی ہیں پھر ظلم پیدا ہو جاتا ہے، دکھ دینے میں لذت آنی شروع ہو جاتی ہے، غریب کے احساسات اٹھ جاتے ہیں، دلوں سے پھر کمزورں کو مزید کمزور بنانے میں چسکا آنا شروع ہو جاتا ہے۔جب یہ کردار بن جاتے ہیں ایک معاشرے کے تو اس سے پھر وہ قومی کردار پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے آج دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے اور آخری انجام ان کا بد کرداری، ایسے بچے جو ولد الحرام ہیں ان سے سو سائٹیوں کا بھر جانا، مظالم کا پھیل جانا ، خدا کی ہستی کا انکار ، مذہب کو فرسودہ چیز قرار دینا اور کہنا کہ اگلے وقتوں کی باتیں ہیں دفع کرو، ان باتوں کا تذکر ہم سے نہ کرو اور جب ایسے لوگ نکلیں گے جو ذرہ بنانے والے لوگ ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے لوگ ہیں انہیں ذروں اور انھی ٹکڑوں میں سے انکے لئے آگ نکلے گی جوان کو ہلاک کر دے گی۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو تو فیق عطا فرمائے کہ ان بدیوں کو معمولی نہ سمجھیں ان کی بیخ کنی کریں کلیتہ ، جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں ان بدیوں کو اور پھر ان قوموں کے لئے دعا کریں جو ہلاکت کی طرف بڑی تیزی بڑھ رہی ہیں۔آخر یہ ایک دلچسپ بات آپکوسناؤں۔سائنسدانوں کی ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے سالہا سال سے جس میں تقریباً بارہ یا چودہ نوبل لاریئیٹس بھی شامل ہیں یعنی نوبل پرائز جنہوں نے حاصل کیا ہوا ہے اور انہوں نے بڑے سالوں سے ایک اٹامک کلاک بنایا ہوا ہے واشنگٹن میں ہے غالباً اور وہ مطالعہ کرتے ہیں حالات کا اور اس سوئی کو جس کو اٹامک کلاک کہتے ہیں اس کو آگے اور پیچھے کرتے