خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 770

خطبات طاہر جلد ۳ 770 خطبه جمعه ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۸۴ء ہوا تو عالم اسلام پر تباہی آجائے گی ، خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا تو پتہ نہیں کیا خوفناک حالات دُنیا میں پیدا ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں اسلام نعوذ باللہ من ذلک تباہ ہو جائے گا۔بوڑھوں کا اجتماع ہوا تو اس سے ان کو خطرات وابستہ نظر آنے لگے کہ اس اجتماع سے بھی یا وطن ہلاک ہو جائے گا تباہ ہو جائے گا یا عالم اسلام کو نقصان پہنچے گا۔یہ فرضی قصے پہلے حکومت کے منشا کے مطابق حکومت سے سمجھوتے کے مطابق علماء ایک دم جس طرح برسات میں مینڈک بولنے لگ جاتے ہیں سارے پاکستان میں وہ علماء کا ٹو لہ جو حکومت کے ہاتھ میں اس وقت کھیل رہا ہے آلہ کار بنا ہوا ہے وہ ایک دم یہی راگ الاپنے لگ جا تا تھا اور کسی کو شرم نہیں آتی تھی کسی کو حیا نہیں تھا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں کہ اطفال کے اجتماع سے دنیا تباہ ہو جائے گی۔مستورات کے لجنہ کے اجتماع سے عالم اسلام ہلاک ہو جائے گا یہ کیا با تیں کر رہیں ہیں لیکن جب شرم اور حیا اور تمام اعلیٰ اقدار ختم ہو چکی ہوں ، جب ذہنی قوتیں مفلوج ہو جائیں، جب حیا ہی باقی نہ رہے تو پھر انسان ہر قسم کی حرکت کر سکتا ہے۔چنانچہ آپ پاکستان کے اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھیں آپ کو ہر موقع پر اچانک اسی قسم کی خبریں نظر آنی لگ جائیں گی یعنی ایک صبح کو اٹھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تمام پاکستان میں ایک خاص طبقہ علماء ایک دم یہ شور مچانے لگ گیا ہے کہ انصار اللہ کا اجتماع نہیں ہوسکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔پھر اچا نک علماء کو خیال آتا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا اجتماع نہیں ہوسکتا ور نہ عالم اسلام کو خطرہ ہے، کبڈی نہیں ہوسکتی ورنہ عالم اسلام کو خطرہ ہے ، باسکٹ بال نہیں ہوسکتا ورنہ عالم اسلام کو خطرہ ہے۔تو یہ جو سرالاپتے تھے سارے آخر اس کی مرکزی جڑیں تھیں وہاں سے آواز نکلتی تھی تو یہ سب تک پہنچتی تھی اور پھر حکومت کے اخبار تھے ، حکومت کے ٹیلی ویژن اور حکومت کے ریڈیو یہ ساری باتیں اچھالتے تھے کہ علماء یہ کہہ رہے ہیں تا کہ نفسیاتی طور پر قوم پر یہ اثر پیدا ہو کہ ہاں ایک بہت ہی خطرناک بات ہونے لگی ہے اور حکومت مجبور ہورہی ہے گویا کہ ان لوگوں کی آواز کے سامنے سر جھکانے پر حالانکہ حکومت کی طرف سے یہ باتیں پیدا کی جاتی تھیں اور یہ سب کچھ ہمارے علم میں تھا۔تو بعض لاعلم بچارے جب کھیلوں پر پابندی شروع ہوئی تو بعض ہمارے کھلاڑی شوقین بڑے زور کے ساتھ حرکت میں آگئے کہ ہم ڈی سی کے پاس جائیں گے۔ہم کمشنر سے ملیں گے ، ایک صاحب تو جوش میں آکر اسلام آباد پہنچ گئے مرکزی حکومت