خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 727
خطبات طاہر جلد ۳ 727 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء کی قسم خدا کی نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق رسول کا پلڑا یقینا زیادہ بھاری ہوگا اور ان کی ساری تحریریں جو کھو کھلی اور سرسری اور ایک دنیا پرستی کی بظاہر محبت کی تحریریں ہیں اُن کا کوئی بھی وزن خدا کی نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشق کے مقابل پر نہیں ٹھہر سکتا ان کے متعلق یہ الزام اور ان کے ماننے والوں کے متعلق یہ الزام کہ نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت علی کے متعلق گستاخی سے پیش آتے ہیں۔پھر اس کے بعد جو نتیجہ ہے وہ سنئے اعقل دنگ رہ جاتی ہے، ایک سر براہ مملکت کی طرف سے یہ کلام نازل ہورہا ہے کہ اگر کوئی کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ اسے قتل کر دیتا ہے پھر ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی نعوذ باللہ من ذلک حضرت محمد مصطفی ﷺ ہمارے آقا و پیشوا کو گالیاں دے اور ہم اسے چھوڑ دیں؟ حیرت کی بات ہے! اس کے اندر کیا با تیں مضمر ہیں ان پر غور کیجئے اول تو یہ کہ حکومت دونوں حصوں کو تلقین کر رہی ہے قتل و غارت کی۔جو ذمہ دار ہوتی ہے امن وامان کی اس کے سربراہ کی طرف سے ایک طرف نہایت ہی جھوٹا اور ناپاک الزام لگا کر احمدیوں پر ،مسلمانوں کو انگیخت کیا جارہا ہے یعنی غیر احمدی مسلمانوں کو کہ میں بطور صدر مملکت سر براہ مملکت تمہیں بتا تا ہوں کہ یہ نعوذ باللہ من ذلک گستاخان رسول ہیں ان کا قتل و غارت شروع کر دو اور دوسری طرف احمدیوں کو غیرت دلائی جارہی ہے کہ میں اور میری حکومت دن رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتے ہیں جو تمہیں اپنے باپوں سے بڑھ کر ہے غیرت نہیں اپنے امام کی تم کیوں نہیں اٹھتے اور ہمارا قتل و غارت کیوں نہیں شروع کرتے؟ جہالت کی بھی حد ہے اور غیر ذمہ داری کی بھی حد ہے۔دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی صدر کے منہ سے ایسے جاہلانہ کلمات آپ نے نہیں سنے ہوں گے جیسے یہ کلمات آج جاری ہو رہے ہیں۔عجیب و غریب بارش ہے عرفان کی کہ دنیا کے کسی تقاضے کسی پیمانے کی رُو سے بھی کوئی بھی اس میں نور کا کوئی ادنی پہلو بھی نہیں ہے؟ شرافت کے لحاظ سے دیکھیں ،اخلاقی معیار سے عام دنیا کے اخلاق کے معیار سے دیکھ لیجئے۔سیاسی زبان کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اُن کے لحاظ سے دیکھ لیجئے۔مذہبی اقدار تو خیر بہت بلند ہیں عام شرف انسانی کے متعلق ایسے انسانوں کا تصور جو خدا پر یقین بھی نہیں رکھتے اس کے لحاظ سے بھی دیکھ لیں تو کسی پہلو سے بھی اور کسی معیار کی رو سے بھی ان کلمات میں کوئی روشنی نظر نہیں آئے گی محض تاریکی ہے۔