خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 720

خطبات طاہر جلد۳ 720 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء اٹھو اور بیدار ہو اور ہر اس تحریک کی مخالفت کرو جو کلمہ مٹانے کی تحریک آپ کے پاک وطن سے اٹھتی ہے، مخالفت کرو اور بیدار ہو جاؤ اور حرکت میں آؤ کیونکہ اگر تم وقت پر حرکت میں نہیں آؤ گے تو خدا کی قسم خدا کی تقدیر تمہارے خلاف حرکت میں آجائے گی اور اس ملک کو مٹا کر رکھ دے گی جو آج کلمہ کے نام کو مٹانے کے درپے ہوا ہوا ہے۔جس ملک کو کلمہ نے بنایا تھا، کلمہ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر اس کلمہ کو مٹانے کے لئے وہ سارا ملک بھی اکٹھا ہو جائے تو وہ کلمہ پھر بھی غالب آئے گا اور وہ ملک اس کلمہ کے ہاتھوں سے توڑا جائے گا جس کو کسی زمانہ میں اسی کلمہ نے بنایا تھا۔اللہ اس وقت سے ہمیں بچائے اور محفوظ رکھے اور اس قوم کو عقل دے اور ان کے تالوں کو تو ڑ دے۔یہ ہوش سے بیدار ہوں کہ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: یہ خطبہ زیادہ تر قوم سے ہی خطاب تھا تو بحیثیت مجموعی اس میں احمدی کے لئے کوئی نمایاں الگ پیغام تو نہیں تھا لیکن یہ میں جانتا ہوں اور ہر احمدی کو علم ہے اس لئے کسی الگ پیغام کی میں نے ضرورت محسوس نہیں کی کہ احمدی کسی قیمت پر بھی کلمہ سے جدا نہیں ہوں گے۔ان کی زندگیاں ان کو چھوڑ سکتی ہیں مگر کلمہ احمدی کو نہیں چھوڑے گا اور احمدی کلمہ کو نہیں چھوڑیگا۔ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرسکتی ہے مگر کلمہ کو ساتھ لے کر اٹھے گی اور ناممکن ہے کہ ان کی روح سے کلمہ کا تعلق کا ٹا جائے۔ان کی رگ جان تو کائی جاسکتی ہے مگر کلمہ کی محبت کو ان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔احمدیوں کی کیفیت تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ظاہری وجود کو جب خطرہ تھا تو انصار کے دل سے ایک بے ساختہ آواز اٹھی تھی کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور خدا کی قسم دشمن نہیں پہنچ سکتا آپ تک جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ نکلے۔(السیرة الحلبیہ جلد دوم نصف اول صفحه: ۳۸۵ ذکر غزوة بدر ) آج حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا ظاہری وجود تو ہم میں نہیں ہے لیکن آپ کی یہ پاک نشانی ہمیں دل و جان سے زیادہ پیاری ہمارے اندر موجود ہے یعنی وہ کلمہ طیبہ جس میں توحید باری تعالیٰ کا محمد مصطفی ﷺ کی ذات کے ساتھ اتصال ہوتا ہے جو کچھ بھی عزیز تر ہوسکتا ہے انسان کو وہ سب اس میں مجتمع ہے اس لئے ہم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب