خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد ۳ 700 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۸۴ء ایک سنت جاری ہوا کرتی ہے تو ان کو کبھی وہم و گمان بھی نہ آتا کہ ہم اپنی بدند بیروں کے بدنتائج سے بچ جائیں گے۔تو چونکہ وہ پہلوں کی سنت پر دھیان اس طرح کرتے ہیں جیسے کچھ گزری ہوئی قومیں تھیں ان سے یہ بیوقوفی سرزد ہوگئی، ان سے وہ بے وقوفی سرزدہوگئی ، ایسے بعض بڑے بڑے لوگ تھے ان کی تاریخ پڑھتے ہیں کہتے ہیں ان سے یہ حماقت ہوئی، یہ نہ ہوتا تو نپولین نہ مارا جاتا ، وہ نہ ہوتا تو فرعون کے ساتھ وہ سلوک نہ ہوتا۔تو وہ تاریخی نقطہ نگاہ سے ان کی غلطیاں دیکھنے لگ جاتے ہیں اور ان کی سنت کی طرف ان کا دھیان رہتا ہے اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب یہ تو میں دنیاوی قو میں اللہ کے مقابل پر آتی ہیں تو پھر اللہ کی بھی ایک سنت جاری ہوا کرتی ہے،اس سنت میں وہ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے، اس سنت میں وہ کبھی ٹال مٹول نہیں پائیں گے۔أوَلَمْ يَسِيرُوا فِى الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وہ کیوں غور نہیں کرتے اور کیوں جائزہ نہیں لیتے اپنے گردو پیش کا وہ قوموں کی اس دبی ہوئی تاریخ کا مطالعہ کیوں نہیں کرتے جو ہلاک ہوکر زیرزمین دفن ہوچکی ہیں يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ دنیا میں پھریں اور دیکھیں کہ پرانی قوموں کا کیا انجام ہواوَ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَةٌ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھیں اور ان کے مقابل پر خدا کی طرف سے آنے والے بندے بظاہر ان سے بہت زیادہ کمزور تھے۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْ اب پھر اسی طرز میں جس طرح پہلے قوم کی سنت کا ذکر کر کے اچانک سنت کا مضمون خدا کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا تھا اب ان کی اس قوم کو أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوةٌ بیان کرنے کے بعد کہ وہ بہت بڑی طاقتور قو میں تھیں اچانک مضمون کو پھر خدا کی طرف پھیر دیا اور فرمایا : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَوتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ لیکن بدقسمتی سے ان کا مقابلہ خدا سے پڑ گیا یعنی مضمون یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اگر ان کی ط قوت پر صرف انحصار کیا جائے اور عام تاریخی مطالعہ ہو تو نتیجہ یہی نکلنا چاہئے جو اس زمانہ کے بیوقوف نکالتے ہیں کہ جب بڑی قوموں کی چھوٹی قوموں سے ٹکر ہوتی ہے تو ان کو ہلاک کر دیا کرتی ہیں ، جب زیادہ مکار اور چالاک لوگوں کی سادہ لوح انسانوں سے لڑائی ہوتی ہے تو مکار اور چالاک غالب آ جایا