خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد ۳ 699 خطبه جمعه ۳۰ /نومبر ۱۹۸۴ء ہدایت پانے سے محروم کر دیا۔لیکن ایک بات تو بھول جاتے ہیں وَلَا يَقِيقُ الْمَكْرُ السَّيْئُ إِلَّا بِأَهْلِه گندی اور ناپاک تدبیر تو بنانے والے کے سوا کسی کو گھیرے میں نہیں لیا کرتی۔کسی کا گھیر انہیں ڈالتی، کسی کو نا کام اور ذلیل ورسوا نہیں کرتی، کسی کو ہلاک نہیں کرتی مگر اسی کو جس نے وہ تدبیر بنائی ہو اور فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ پس وہ کیا گزرے ہوئے لوگوں کے اوپر جو واقعات گزر گئے ان کے سوا کچھ چاہتے ہیں؟ کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس دفعہ وہ واقعات ان پر نہیں گزریں گے جو پہلی قوموں پر گزرتے رہے ہیں جن پر تاریخ گواہ ہے؟ کیا وہ خدا سے کسی اور سلوک کی توقع رکھ رہے ہیں؟ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا لیکن یا درکھیں اور اے مخاط اتو یاد رکھ کہ تو خدا کی سنت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھے گا۔وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا اور خدا کی تدبیر میں اور خدا کی سنت میں تو کبھی کوئی ٹال مٹول نہیں دیکھے گا واضح اور یقینی اور غیر مبدل سنت جیسے ہمیشہ سے کام کرتی چلی آتی ہے ویسے ہی آج کرے گی۔اس آیت میں جو ایک قابل توجہ بات ہے یہ ہے کہ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ میں تو پہلوں کی سنت کا ذکر فرمایا گیا تھا کہ کیا یہ پہلوں کی سنت کے سوا بھی کسی سنت کی توقع رکھتے ہیں؟ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا میں پہلوں کی سنت کے دہرائے جانے کی بجائے اللہ کی سنت کا ذکر فر ما دیا گیا تو مراد یہ ہے کہ وہ پہلے لوگوں جیسی حرکتیں کر رہے ہیں اور پہلے لوگوں جیسے انجام سے بے خبر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا انجام ویسا نہیں ہوگا اور چونکہ یہ انجام خدا کی طرف سے آیا کرتا ہے اس لئے جب نتیجہ ظاہر فرمایا تو وہاں سُنتَ الْأَوَّلِينَ کی بجائے سنت اللہ کی طرف اشارہ فرما دیا کہ جب پہلے لوگوں نے ایک خاص طریق اختیار کیا، ایک خاص رنگ ڈھنگ اپنایا تو ان کی ہلاکت خدا کی تقدیر کے نتیجہ میں ہوئی تھی، ایک طبعی نتیجہ کے طور پر نہیں ہوئی اس لئے مضمون کو بدل کر سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ کی بجائے نتیجے کے وقت اللہ کی سنت کا ذکر فر ما دیا، یہ چونکہ پہلی قوموں کی سنت پر چل پڑے ہیں اور توقع یہ رکھ رہے ہیں کہ پہلی قو میں تو بیوقوفی کی وجہ سے یا کسی اور مقصد یا کسی اور کوتاہی کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں ہم زیادہ ہوشیار ہیں ، ہم زیادہ بڑے ہیں، ہم زیادہ چالاکیاں جانتے ہیں، ہم اس انجام سے بچ جائیں گے۔یہ وہم پیدا ہوتا ہے بدسکیمیں بنانے والوں کے دماغ میں اور مَكْرَ السَّيِّئ کرنے والوں کے دماغ میں اگر وہ یہ یقین رکھتے کہ اللہ کی طرف سے پھر