خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 654

خطبات طاہر جلد۳ 654 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء پیش کر رہا ہے جس قسم کے تنگ نظر وہ اسلام کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے ہیں جس قسم کا تمہارے رسول کا تصور انہوں نے بنایا ہوا ہے انہوں نے بتایا سلمی سعید کو کہ ہم تو دن بدن نفرتوں سے بھر رہے تھے۔آج ہمارے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی ہے۔بعضوں نے دعا کے لئے کہا کہ دعا کرواب ہمیں اللہ جلد ہدایت نصیب کرے۔ایک لڑکی جس کا میں نے ذکر کیا ہے اس نے کہا کہ میں نے ابھی بیعت کرنی ہے۔جو ساتھ لے کر آئی ہوئی تھی اس نے کہا کہ بی بی ابھی بیعت نہ کرو کچھ اور سوچ لو ابھی تو تم نئی ہو اس نے کہا تمہیں نہیں پتہ کیا بات ہے۔میں نے چند دن ہوئے ایک خواب دیکھی اور اس خواب میں ایک موسیٰ کا ذکر تھا اور ایک کفن کا ذکر تھا اعصائے موسیٰ اور اس کا جیت جانا اور ایک کفن کا ذکر تھا جو مسیح کا کفن تھا اور مجھے کچھ مجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خواب کیا ہے؟ جب یہ سلمی سعید سوال کا جواب دے رہی تھیں تو جو الفاظ ان کے منہ سے نکلے بعینہ وہی خواب میں مجھے بتائے گئے تھے اور کفن کا جو ذ کر انہوں نے کیا ہے وہی ذکر خواب میں چل رہا تھا تو اب تو میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی۔چنانچہ وہاں سے واپس جا کر گھر پھر انہوں نے فون کیا انہوں نے کہا میں بے قرار ہو گئی ہوں، مجھ سے ابھی بیعت لو۔چنانچہ انہوں نے۔پھر بلایا اور بیعت ان کی لی اور اب خدا کے فضل سے وہ بیعت مجھے رات ہی بھجوادی گئی۔جرمنی میں خدا کے فضل سے ستر سے اوپر احمدی ہو چکے ہیں اللہ کے فضل سے جو تازہ اطلاع ملی ہے اور رجحان بڑھ رہا ہے تیزی سے۔ہندوستان میں جیسا کہ میں نے بیان کیا گاؤں کے گاؤں بعض علاقوں میں احمدی ہور ہے ہیں کل ایک خط آیا ہے کہ وہاں جب احمدیت کے پھیلنے کی خبریں ملیں تو دور دراز سے بڑے بڑے علم پہنچے نفرتیں پھیلانے کے لئے پہنچے اور ان لوگوں کو ، علما کو گاؤں والوں نے نکال دیا انہوں نے کہا کہ ہمیں تمہارا اسلام نہیں چاہئے تم نفرتیں لے کر آئے ہو تم گالیاں لے کر آئے ہو۔انہوں نے تو ہمیں زندہ کر دیا ہے ، انہوں نے تو ہمیں خدا کا پیار عطا کیا ہے، تم کیا باتیں کرتے ہو۔یہ کس طرح جھوٹے ہو گئے جو خدا کی باتیں اور رسول کی باتیں کرتے ہیں۔جنہوں نے ہمیں اللہ کی محبت سکھائی ، جنہوں نے ہمیں نماز روزہ بتایا اور تم ہمیں آکر ان کے خلاف گالیاں دے کر ان سے بدظن کرنا چاہتے ہو، تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔بعض گاؤں والوں نے ان سے کہا، یہ ہندو علاقہ تھا، جب ہندو ہمیں ہندو بنا رہے تھے جب ہماری تہذیب تباہ ہورہی تھی اس