خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 650

خطبات طاہر جلد ۳ 650 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء من وراء الامام و یتقی بہ ) امام تو ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے رہ کر لڑنا چاہئے۔تم نے جلد بازی کی ہے مجھے خود احساس ہے تم سے زیادہ احساس ہے کہ کیا ہو رہا ہے، ساری دنیا کی ضرورتیں میرے پیش نظر ہیں، اسلام کی ساری ضروریات پیش نظر ہیں اور تمہارے لکھنے سے پہلے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ تمہیں ساری بات سمجھا کر پھر تحریک کروں گا۔جہاں تک جماعت کی استطاعت کا تعلق ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ساری جماعت اپنی ساری دولت بھی لٹا دے تو اس وقت جو بھوک کا دن آ گیا ہے اس کو دور نہیں کرسکتی۔آٹے میں نمک کے برابر بھی ہمارے اندر توفیق نہیں کہ ہم ان لوگوں کی تکلیف دور کر سکیں لیکن اس وقت ایک میدان خالی ہے جہاں يَتِيمَا ذَا مَقْرَبَةٍ موجود ہے یا أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ بھی موجود ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ چاڈ کے فرانس سے تعلقات ہیں وہ مدد دے یا لیبیا سے تعلقات ہیں قذافی کیوں نہیں دیتا ان کو؟ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نائیجر کا فرق ہی کو ئی نہیں پڑتا جتنے مرضی بھو کے مر جائیں ان سے کیا فرق پڑتا ہے نہ وہ اس طرف کے اور نہ وہ اس طرف کے اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ بھی وہاں موجود ہیں۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ میں تحریک کرتا میں نے تمام افریقہ کے مبلغین کو یہ لکھوایا ہوا ہے کہ آپ پوری طرح جائزہ لیں کہ کس طرح ان غریبوں کی جماعت مددکر سکتی ہے؟ کون سا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں مسائل کیا در پیش ہوں گے۔صرف ٹرانسپورٹ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اگر ہم ٹرانسپورٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں اپنے لئے ، تو سارے وسائل کام آجا ئیں گے لیکن ہم نہیں کر سکیں گے لیکن اس سے قطع نظر ہمیں اپنے دل کا اطمینان ہونا چاہئے۔میں جو تحریک کر رہا ہوں وہ اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ قطع نظر اس کے کہ کام ہماری طاقت سے بڑھ کر ہے ہماری نیت یہ ہونی چاہئے کہ ہم اپنے رب کے حضور اپنے تعمیر کو مطمئن پائیں ، ہمارے دل میں یہ تسکین ہو کہ ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے شدید مشکلات میں مبتلا تھے، اپنے وطنوں میں احمدی بے وطن ہورہے تھے ، ان کے اقتصادی ذرائع پر ضربیں لگائی جارہی تھیں، ان کو ہر طرح بد حال اور مفلوک الحال کیا جارہا تھا، ان پر دنیا کو احمدی مسلمان بنانے کی ذمہ داریاں تھیں، ان کو بے شمار