خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد ۳ 648 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء ہے کوئی یتیم جس کے کوئی بھی قریبی ہوں چنانچہ اسی مضمون کو جب آپ قوموں کی شکل میں اطلاق کرتے ہیں تو یہ منظر سامنے آتا ہے کہ بعض تو میں بعض کی دوست ہوتی ہیں وہ ان کا سہارا اور ولی ہوتے ہیں اور بعض قو میں ہیں جو بیچاری بے سہارا ہو جاتی ہیں ان کا کوئی سیاسی دوست نہیں ہوتا تو ایسی قومیں جن کے سیاسی دوست بھی ہوتے ہیں۔اگر وہ خدا والی قومیں ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ یہ انتظار نہیں کریں گے کہ ان کا فلاں دوست ہے اس سے یہ کیوں نہیں کھانا لیتے۔روس سے تعلقات ہیں اور روٹی لینے ہمارے پاس آگئے ہیں۔جو خدا کے بندے ہیں وہ پھر یہ نہیں دیکھا کرتے ، ان کو صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے بندے ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہیں اس لئے ان کی خدمت شروع کر دیتے ہیں۔أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ اور ایسے لوگ یا ایسی قومیں بھی ہوتی ہیں جو پراگندہ حال، خاک آلود مسکین جن کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو مثلاً نائیجر ہے مثلاً چاڈ ہے آج کل یا اور شمالی افریقہ کے بعض ممالک کے جنوبی حصے خصوصیت کے ساتھ بہت ہی شدید تکلیف میں مبتلا ہیں لیکن ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے تو ان کو بھی وہ کھانا کھلاتے ہیں۔ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا پھر ایک اور تعریف یہ بیان فرمائی کہ جولوگ عقبہ کی طرف حرکت کرتے ہیں بلندی کی طرف یعنی نیکیوں میں سے اعلیٰ نیکی کو پکڑتے ہیں اور ظاہری دکھاوے کی نیکی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ بلندی پر چڑھتے چڑھتے خدا تک پہنچ جایا کرتے ہیں کیونکہ سچی نیکی لازما انسان کو خدا تک لے جاتی ہے ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا اور یہ صفت ہے ایسے رنگ میں جو گزشتہ صفات کے اوپر ایک نگر ان کے طور پر مقرر ہو گئی ہے۔یہ صفت بتاتی ہے کہ پہلی صفات حقیقی رنگ میں موجود تھیں یا نہیں۔اگر یہ نصیب ہو جائے تو یقین جانو کہ تمہاری نیکی سچی تھی اور بلندی کی طرف حرکت کر رہی تھی۔اگر تمہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا نیکیوں کے نتیجہ میں اور دنیا کے کپڑے رہتے ہو تو ان نیکیوں کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔چنانچہ ایک دفعہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب میں مشرک تھا، بے دین تھا اس وقت بھی میں نیکی کیا کرتا تھا، اس وقت بھی مجھے غریبوں سے