خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد ۳ 647 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء میں بہت شدید قحط پڑنے والا ہے، کثرت سے لوگ فاقوں مریں گے اور دوسرے ممالک کے متعلق بھی تھی اور تم چپ کر کے بیٹھے رہے اور اب جب کہ سیاسی دوڑ شروع ہوئی ہے تو ایک دوسرے پہ سبقت لے جا رہے ہو۔أو إظعُمُ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے کچھ بندے ایسے وقت میں بھی کھانا کھلاتے ہیں جب کہ خود وہ فاقوں کا بھی شکار ہورہے ہوتے ہیں ،خود ان پر مالی تنگی پڑ رہی ہوتی ہے، ان کے حالات اقتصادی ان کو بظا ہر ا جازت نہیں دیتے کہ وہ دوسروں پر خرچ کریں ایسے عام حالات میں وہ پھر خدا کی خاطر آگے بڑھتے ہیں: وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنَا وَ يَتِيمَا وَ أَسِيرًا (الدھر:۹) ایک دوسری جگہ فرمایا تو اس وقت جب کہ کھانے سے محبت ہو جاتی ہے انسان کو فاقہ کشی کی وجہ سے۔عام طور پر کھانا سب کو عزیز ہے لیکن جب کھانا عام ملتا ہو تو اس سے محبت نہیں ہوا کرتی لیکن جب غائب ہونا شروع ہو جائے کھانا تو اس سے محبت ہو جاتی ہے اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں وقت جو مزہ دال روٹی کا آیا تھا ویسا پھر کبھی مزہ نہیں آیا اس لئے کہ بھوک کا شکار ہوتے ہیں۔شکار کے ذریعہ یا کسی اور پکنک کے ذریعہ یا ویسے ہی بعض حالات کے نتیجہ میں وقتی طور پر کھانا میسر نہیں آتا اور ایک احمدی جو کھانے کا عادی ہے با قاعدہ اس کو اتنی بھوک لگتی ہے اتنی بھوک لگتی ہے کہ ترس جاتا ہے کھانے کے لئے۔اس وقت اس کو کھانے سے محبت ہو جاتی ہے تو فرمایا وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيما و اسیران جب محبت ہو چکی ہوتی ہے کھانا سے عشق ہو جاتا ہے انسان کو اس وقت بھی وہ خدا کی خاطر دوسرں کو دے رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ وہی نقشہ ہے أو إطعم في يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ اس وقت وہ کھانا کھلاتے ہیں جب کہ بھوک عام ہو جاتی ہے۔يَتِيْمَاذَا مَقْرَبَةِ أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ ایسے یتیم کو بھی کھانا کھلاتے ہیں جس کے پوچھنے والے لوگ موجود ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اس کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں، وہ زیادہ ذمہ دار ہیں کہ اس بات کے کہ وہ اس کو کھانا کھلا ئیں۔يَتِيْماذَا مَقْرَبَةٍ کا عام معنی لیا جاتا ہیں کہ اپنے عزیز قیموں کو لیکن خدا نے تو یہاں کہیں یہ ضمیر ان کی طرف نہیں پھیری۔یہ تو کلام الہی کی شان ہے کہ اس مضمون کو کھول دیا اور وسعت عطا فرما دی۔پس يَتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ کا مطلب