خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 644 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 644

خطبات طاہر جلد۳ 644 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء ان نیکیوں کی اپنی صفات ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے سے ایک دوسرے کو ممتاز کر دیتی ہیں۔چنانچہ فرمایا وَمَا أَدْرِيكَ مَا الْعَقَبَةُ تمہیں ہم کیسے عقل دیں کیسے سمجھائیں کہ عقبہ کیا چیز ہے؟ اس کی بنیادی شرط یہ بیان فرمائی فَكُ رَقَبَةٍ یہ وہ نیکی جو بنی نوع انسان کی ہمدردی سے تعلق رکھتی ہے اس میں ہمدردی کے دوران بندشیں نہیں ڈالی جایا کرتیں Ties نہیں ہوا کرتی ، اُس کے ساتھ کوئی Strings نہیں ہوا کرتیں، یعنی انسانی ہمدردی ہو اور پھر سیاسی مقاصد پیش نظر ہوں ، انسانی ہمدردی ہو اور قومی مقاصد پیش نظر ہوں ، رنگ اور نسل کی تمیز ہو جائے اور انسان کوشش یہ کرے کہ نیکی کے ذریعہ کسی قوم کو اپنا غلام بنالے۔فرمایا اگر یہ بات تمہاری نیکی میں پائی جائے تو وہ عقبہ والی نیکی نہیں، اس نیکی کے نتیجہ میں تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ تم نے نیکی کے نام پر قوموں کو غلام بنانے کا فیصلہ کیا ہے تم نے نیکی کے نام پر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تو اس روح کو جو قرآن کریم نے بیان فرمائی اس کو مد نظر رکھ کر آج آپ بڑی بڑی قوموں کی بظا ہر نیکیوں پر نگاہ ڈالیں تو ان میں سے ہر ایک فَ رَقَبَةٍ کی صفت سے عاری نظر آتی ہے۔ابھی پچھلے دنوں بہت زیادہ چرچا ہوا ہے۔ابے سینیا میں یعنی حبشہ میں فاقہ کی آفات کا اور اچانک ٹیلی ویژن میں، ریڈیو میں، اخباروں میں بڑی شدت سے وہاں کے متعلق خبریں آنے لگی ہیں اور قومیں حرکت میں آئی ہیں۔یورپ حرکت میں آگیا ہے، امریکہ حرکت میں آگیا ہے ، روس حرکت میں آگیا ہے اور اس سے پچھلے سال سینی گال میں اور دوسرے ممالک میں اس قدر فاقے پڑے ہیں کہ جانو رتباہ ہو گئے بھوک سے، انسان تباہ ہو گئے ، بچے مارے گئے۔اتنے خوفناک مناظر ہیں اس زمانے کے جو بعد میں تصویروں میں پیش کئے گئے کہ علاقے کے علاقے صحرا پنجروں سے بھرے پڑے ہیں جو جانور ایک ساتھ رہ نہیں سکتے بھوک کی شدت نے ان کو ایک انسانی زندگی کے انس کے نتیجہ میں اکٹھا کر دیا، شیر بھی وہیں مرا پڑا ہے، بکری بھی وہیں مری پڑی ہے، ہاتھی بھی وہیں مرا پڑا ہے، خرگوش بھی وہاں مرا پڑا ہے اور ان کے پنجر بتا رہے ہیں کہ ان میں یہ بھی استطاعت نہیں رہی تھی آخر پہ آ کر کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکیں۔پانی نہیں تھا جب پیاس کی شدت ہو جائے اور جسم نڈھال ہو جائے تو کھانے کی خواہش ہی باقی نہیں رہتی۔ہاتھیوں نے پاؤں سے گڑھے نکالے، کنویں نکالے جس حد تک بھی ہاتھی کو استطاعت ہے اور وہ کافی گہرا گڑھا کھود لیتا ہے۔ان کے