خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 643

خطبات طاہر جلد ۳ 643 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء اللہ تعالی فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ وَ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ کہ کیا ہم نے اسلام سے یا دین سے بے بہرہ لوگوں کو آنکھیں عطا نہیں فرمائی تھیں۔اگر چہ واحد میں ذکر چل رہا ہے لیکن اس سے مراد قوم ہے یا انسان بحیثیت انسان ہے۔تو ایسا انسان جو دین سے بے بہرہ ہو اس کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کیا ہم نے تمہیں آنکھیں عطا نہیں فرمائی تھیں اور کیا تمہیں بولنے کے لئے اعضاء عطا نہیں کئے گئے تھے۔وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ زبان نہیں دی تھی تمہیں اور ہونٹ نہیں دیئے تھے تا کہ اگر کوئی بات تمہیں معلوم نہیں ہو سکتی تھی تو پوچھ کر معلوم کر لیتے ؟ اگر تم بے خدا تھے تو خدا والوں سے یہ سلیقے سیکھ لیتے یہ مراد ہے وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ اور ہم نے اسکے اوپر کیا دور استے نہیں کھول دیئے تھے؟ جن میں سے ایک راستہ ترقی کا تھا اور ایک تنزل کا۔اسکے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةُ اس نے اوپر جانے والا راستہ اختیار نہیں کیا اور تنزل کا راستہ اختیار کر لیا جس میں محنت اور مشقت کرنی پڑتی ہے اس راستہ کو چھوڑ دیا اور آسانی کا راستہ اپنے لئے اختیار کر لیا جو دنیا کی طرف لے کر جاتا ہے۔وَمَا أَدْريكَ مَا العَقَبَةُ اور تمہیں کیا چیز بتائے، کیسے سمجھایا جائے کہ عقبہ کیا ہے یعنی نیکیوں میں بلندی کی راہ اختیار کرنا کیا چیز ہے؟ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکیاں بھی دو قسم کی ہیں نـجــدیــن سے مراد یہ نہیں ہے کہ بدی کا راستہ بالمقابل نیکی کے راستہ کے، یہ دور استے ہیں اس تعلق میں نـــجـــدیــن کا مطلب یہ ہے کہ دو قسم کی نیکیوں کے راستے ہم نے اس کے لئے کھولے تھے، ایک دنیا داری کی، مادہ پرستی کی نیکیاں ہیں جو بے خدا لوگوں میں بھی نظر آجاتی ہیں اور ایک وہ نیکیاں ہیں جو حقیقی نیکی کی روح رکھتی ہیں، جو آخر خدا تک انسان کو پہنچا دیتی ہیں۔ان دونوں نیکیوں میں بظاہر مشابہت کے با وجود ایک نمایاں فرق ہے اور بسا اوقات اس زمانہ میں لوگ اس فرق کو نہ پہچان کر یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے تو مذہبی لوگوں میں وہ نیکیاں نہیں دیکھیں جو ہمیں غیر مذہبی دنیا میں نظر آ رہی ہیں۔تو اللہ تعالی دو قسم کی نیکیوں میں تمیز فرما رہا ہے ایک عقبہ کی نیکی ہے جو محنت کو مشقت اور جان کو جوکھوں میں ڈال کر خدا کی خاطر نیکی کو اختیار کرنا اور اس کی اپنی صفات ہیں۔ایک دنیا کی خودرو نیکیاں ہیں اور