خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 640
خطبات طاہر جلد ۳ 640 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء ہیں اگر جمعہ کی نماز ڈیڑھ بجے شروع کی جائے تو عصر کی نماز کے لئے الگ وقت نہیں رہتا بلکہ دونوں وقت مل جاتے ہیں۔نمازوں کے بعد ایک جنازہ غائب ہوگا۔عبد الخالق صاحب لدھیانوی کراچی میں وفات پاگئے ہیں۔مرحوم بہت ہی مخلص اور سلسلہ کا کام کرنے والے فدائی احمدی تھے۔ان کا جنازہ ربوہ لے جایا گیا لیکن کسی وجہ سے نماز جنازہ میں زیادہ دوست شامل نہ ہو سکے۔مرحوم کی بچی کی درخواست تھی کہ ان حالات میں چونکہ آپ نے منع کیا تھا اس لئے جنازہ غائب کی درخواست نہیں کی گئی مگر وہ انداز ایسا تھا کہ پھر میں خود ہی اس سے رک نہیں سکا۔اللہ تعالی ان کو غریق رحمت فرمائے۔بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ایک دفعہ وہ چندہ جیب میں ڈال کر جا رہے تھے ادائیگی کے لئے سیکرٹری مال کے پاس جمع کروانے کے لئے جار ہے تھے رستے میں ان کی جیب کٹ گئی۔چنانچہ کراچی کی جماعت نے انہیں یہ پیشکش کی کہ ہم آپ کو جانتے ہیں، نہایت مخلص اور دین دار آدمی ہیں، غلط بیانی کا کوئی سوال ہی نہیں، ہم یہ چندہ چھوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔واپس آئے ، اپنی بیوی سے کہا یا کسی عزیز سے کہا،گھر کا زیور بیچا اور اللہ کے فضل سے سارا چندہ ادا کر دیا۔لیکن یہ داغ نہیں لیا کہ کوئی یہ کہہ سکے کہ خدا کا مال تھا کھا گیا۔اسکے معا بعد ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ان کو پتہ بھی نہیں تھا ان کی کوئی رقم ایسی ہے جو دفتر میں زیر غور پڑی ہوئی ہے۔چنانچہ جب وہ چندہ کی رقم ادا کرنے کے بعد دفتر گئے تو پتہ لگا انہوں نے جتنی رقم ادا کی تھی اس سے دوگنی رقم دفتر میں ان کا انتظار کر رہی تھی۔کوئی پرانا حساب تھا جو اس موقع پر ان کو ادا کر دیا گیا۔پس جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص کا اعلی نمونہ پیش کرتا ہے اللہ تعالی کا سلوک بھی اس سے ایسا ہی ہوتا ہے۔اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔نمازوں کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے گی۔اور پھر اس کے بعد ایک نکاح کا اعلان کیا جائے گا۔میرے ماموں زاد بھائی بشیر الدین صاحب کی بیٹی عائشہ بشیر الدین کا نکاح میر مظہر صاحب سے قرار پایا ہے جس کا یہیں نمازوں کے بعد اعلان کیا جائے گا۔