خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد۳ 571 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء ہرا میداٹھ جایا کرتی ہے اور وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اَوْلِيَاء میں یہی نقشہ کھینچا گیا ہے کہ تم تو ایسی حالت میں آچکے ہو کہ باقی ساری کشتیاں تمہاری جل گئیں ہیں ، ساری راہیں تم نے اپنے او پر بند کر دی ہیں کیونکہ دنیا والے تو کسی نہ کسی قدر مشترک کسی بنا پر مدد کیا کرتے ہیں، دنیا والے تو سودوں کے نتیجے میں مدد کیا کرتے ہیں، کچھ اپنے اصول چھوڑنے پڑتے ہیں اور کچھ ان کے اپنانے پڑتے ہیں لیکن ایک ایسی جماعت جو کل یہ اللہ کی ہو چکی ہو اور اصول میں ایک ذرہ برابر بھی نرمی کے لئے تیار نہ ہو، جس کو خریدا نہ جا سکتا ہو، جس کو اپنے مقاصد کے لئے ان کے اصولوں کے خلاف استعمال نہ کیا جاسکتا ہو ان کی حالت تو یہ ہے کہ گویا ان کے لئے مدد کے سارے راستے ویسے ہی بند ہو چکے ہیں اور چونکہ یہ محض اللہ کی خاطر ہے اس لئے تمہارے لئے خدا کے سوا اور کوئی ولی نہیں اور اگر ایک دفعہ خدا کو ولی بنا کر اور دنیا کو اللہ کی وجہ سے دشمن بنا کر تم دنیا کی طرف جھکنے کی کوشش کرو گے تو تمہیں آگ ملے گی۔آگ سے مراد یہاں جہنم کے سوا دنیا میں ناکامی اور حسرتوں کی آگ ہے۔تم جتنی کوشش کرو گے تمہیں ہر طرف سے مایوسی اور حسرت کی آگ پہنچے گی اور تمہیں تسکین کے لئے کوئی چیز میسر نہیں آسکے گی اسلئے فرماتا ہے وَمَالَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَا ءَ یاد رکھو اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی نہیں رہا۔ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ خدا کے سوا تم کسی سے مدد نہیں کئے جاؤ گے۔یہاں مرتدین کا بھی ذکر آ گیا وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا میں اس خیال سے کہ ہم ان کے عذاب سے بچ جائیں خدا کے دشمنوں کی طرف جھک جانے کا معنی یہ بھی ہے کہ ارتداد اختیار کر لو، ان کے ساتھ جا ملو۔فرمایا اس صورت میں بھی امر واقعہ یہ ہے کہ تمہارا کوئی حقیقی مددگار نہیں بن سکتا خدا کے سوا اور اللہ سے جب وہ آگ دینے کا کسی کو فیصلہ کرے تو دنیا کی کوئی قوم کسی کو خدا کے سوا بچا نہیں سکتی لَا تُنصَرُونَ مراد یہاں یہ ہوگی۔یہ تو ہے منفی حصہ کیا نہیں کرنا ، اب کرنا کیا ہے۔کوئی عمل کی تعلیم بھی تو ہونی چاہئے فرماتا ہے وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفِي النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِنَ الَّيْلِ عبادت کرو نمازوں کو قائم کرو دن کے دونوں طرف میں بھی اور رات کے ایک حصہ میں بھی اور رات کے آخری حصے یعنی ایک کنارے پر بھی۔اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ یا د رکھو حسنات برائیوں کو دور کر دیا کرتی ہیں۔ذلِكَ ذِكْرَى لِلہ کرین اس بات میں ایک بہت بڑی نصیحت ہے نصیحت پانے والوں کے لئے اور