خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد ۳ 550 خطبه جمعه ۲۸ ر ستمبر ۱۹۸۴ء کی راہ میں اپنے اخراجات کو سمٹینے والو اور اپنی آمد نیوں کو خدا کی راہ کی طرف موڑ دینے والو! یا د رکھو کہ ہماری نگاہیں تم سے غافل نہیں ہیں ہم خوب جانتے ہیں کہ تم کن نیتوں سے خدا کی راہ میں خرچ کر رہے ہو اور ہم خوب جانتے ہیں کہ دنیا تمہیں کیا سمجھ رہی ہے؟ ہم بھی تمہیں کچھ سمجھ رہے ہیں اور تمہارا مستقبل ہم تم پر روشن کرتے ہیں کہ ساری دنیا کی دولتیں تمہارے قدموں پہ نچھاور کی جائیں گی مگر ایسی حالت میں نچھاور کی جائیں گی جب تم عفیف ہو چکے ہو گے، جب تم میں ان سے کوئی دلچسپیاں باقی نہیں رہیں گی ، جب ہم جان چکے ہوں گے کہ جب پہلے بھی تمہیں دولتیں عطا ہوئی تھیں تو تم نے ان سے منہ موڑ لیا تھا تب خدا دنیا کے خزانوں کی کنجیاں تمہارے سپرد کرے گا۔یہ ہیں وہ خوشخبریاں جو ان آیات میں دی گئی ہیں لیکن سب سے مزے کی جو لطف کی بات مجھے اس میں محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ ان باتوں کو دیکھ رہا تھا جو آج ہونے والی تھیں اور ہماری تصویر کیسے پیار سے کھینچی ہے جیسے کہ مصور اپنا قلم لے کر بیٹھ جاتا ہے کسی کو سامنے بٹھا کر اور ناک پلک ایک ایک چیز کا نقشہ اتارتا چلا جاتا ہے صرف فرق یہ ہے کہ دنیا کا مصور تو ظاہر کو دیکھتا ہے ہمارا آقا ہمارا مالک غریب کے دل پر بھی نظر رکھتا ہے جس کے دل میں صرف حسرت ہے اور تمنا ہے کہ کاش! میرے پاس کچھ ہوتا تو میں خرچ کرتا۔اللہ فرماتا ہے اے میرے پیارے بندے میں نے تیرے دل کو دیکھ لیا ہے۔میں اس کی بھی تصویر اتار رہا ہوں۔میں جانتا ہوں کیا حسرتیں تو لئے بیٹھا ہے اور میں اس کا بھی تمہیں اجر عطا فرماؤں گا میری طرف سے میرے در سے کوئی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جائے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: عارف صاحب کا جنازہ آ گیا ہے جمعہ کے بعد جنازہ ہو گا۔ہمارے ایک سلسلہ کے بڑے مخلص خادم جو محمد عارف بھٹی کہلاتے تھے۔یہ اچانک حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے ، بہت مخلص تھے بہت معمر تو نہیں لیکن پھر بھی ۷۵ سال کے قریب عمر تھی اور یہاں بڑے شوق سے خدام سے بھی زیادہ بڑھ کر مستعدی سے ڈیوٹی دیا کرتے تھے اور دیکھنے میں اللہ کے فضل کے ساتھ بہت اچھی صحت تھی۔میں تو سمجھتا تھا کہ پچپن چھپن سال کے ہوں گے بعد میں پتہ لگا کہ ۷۵ سال عمر تھی مگر اپنی مستعدی، شوق اور ولولے کی وجہ سے چھوٹے نظر آتے تھے۔تو ان کو اچانک Heart Failure