خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد ۳ 532 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء بتاتا ہوں اور خاص طور پر ربوہ کے درویشوں کو کہ ” میں تو ملا جا چکا ہوں۔میری زندگی میرا اٹھنا بیٹھنا میرا جینا اور میرا مرنا آپ کے ساتھ ہے۔یہ ناممکن ہے کہ میں خدا کی راہ کے درویشوں کی محبت کو کبھی بھلا سکوں کوئی دنیا کی طاقت اس محبت کو میرے دل سے نوچ کر باہر نہیں پھینک سکتی۔کوئی دنیا کی کشش ، کوئی دنیا کی نعمت میری نگاہوں کو آپ کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف منتقل نہیں کرسکتی۔لاکھوں خدا کے پیارے ہیں جو مجھے بھی بہت پیارے ہیں، لاکھوں پیارے ہیں جو آپ کی طرح اپنے امام سے اور مجھ سے محبت کرتے ہیں صرف اس لئے کہ خدا کی طرف سے میں اس مقام پر فائز کیا گیا ہوں لیکن وہ سب محبتیں اپنی جگہ مگر اے ربوہ کے پاک درویشو! اے خدا کے در کے فقیرو! جو خدا کی خاطر دکھ دیئے جا رہے ہو تمہاری محبت کا ایک الگ مقام ہے، اس کی ایک عجب شان ہے ،اس کا کوئی دنیا میں مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک شعر میرے ذہن میں آیا ہے اس سے شاید میرا مافی الضمیر ادا ہو جائے۔ایک شاعر نے خوب کہا ہے کہ ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور تم سے جہاں میں لاکھ سہی تم مگر کہاں خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک خوشخبری جو میں نے پہلے بھی دی تھی اب پھر آپ کو بھی دیتا ہوں اور باقی جماعت کو بھی کہ جو یوروپین مشن بنانے کی تجویز بھی اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انگلستان میں ایک بہت ہی موزوں جگہ میسر آ گئی ہے۔چھپیں ایکٹر کا رقبہ ہے سرے Surrey میں اور مسجد لندن سے قریبا چالیس منٹ یا 35 منٹ کا فاصلہ ہے بہت اچھی اور جگہ کشادہ۔آپ کی ساری ضروریات انشاء اللہ تعالیٰ وہاں پوری ہو جایا کریں گی بلکہ یوروپین جلسے بھی جب آپ کریں گے تو انشاء اللہ وہ بھی خدا کے فضل سے وہاں بآسانی سماسکیں گے لیکن سر دست وہ جگہ آپ کی ضرورت سے زائد معلوم ہوتی ہے کیونکہ کھلی ہے اور لی اس نیت سے ہے کھلی جگہ کہ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ہمیشہ جب ہم مسجدیں بڑھاتے ہیں یا دفاتر بڑھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو چھوٹا کر دیتا ہے اس لئے اس نیت اور دعا کے ساتھ یہ جگہ لی ہے تا کہ آپ تبلیغ کریں اور بکثرت پھیلیں اور دیکھتے دیکھتے یہ جگہ چھوٹی ہو جائے۔تو یہ دعائیں کریں خاص طور پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ اس وقت جو جگہ وسیع نظر آ رہی ہے وہ بہت جلد ہمیں