خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد ۳ 524 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء اس فیصلے کی پاداش سے متنبہ کیا ہے جو انہوں نے جماعت کے خلاف کچھ عرصہ پہلے کیا تھا اور اپنے خرچ پر اس کی بہت سی کا پیاں طبع کروا کر انہوں نے تمام پاکستان میں بھی تقسیم کروائی ہیں۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو کری کی جماعت کے امیر صاحب کو میں نے لکھا کہ یہ سنی سنائی باتیں ہیں آپ با قاعدہ پتہ کریں کہ وہ دوست کہاں رہتے ہیں اور وفد بجھوائیں اور جو ان سے مل کر معلوم کرے کہ آیا یہ واقعہ درست ہے آپ ہی نے لکھا ہے یہ اشتہار اور اگر لکھا ہے تو کیوں؟ کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے ایسے کسی دوست کا جماعت سے تو پہلے کوئی تعارف نہیں تھا۔بہر حال وہ وفد گیا اور ان کی ایک بڑی دلچسپ لمبی رپورٹ موصول ہوئی ہے اس رپورٹ کے بعض اقتباسات میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔د و احمدی احباب کا وفد گیا انہوں نے تلاش کے بعد جب ان کے گاؤں پہنچ کر دستک دی تو کہتے ہیں کہ فقیر صاحب ہمیں ایک کمرہ میں لے گئے یعنی یہ امیر وفد لکھ رہے ہیں، میری آمد کی وجہ دریافت کی میں نے انکا اشتہار ان کے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ آپ ہی کی طرف سے ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں یہ میں نے ہی لکھا ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس کے محرک کون سے اسباب ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جس دن صدر ضیاء الحق نے جماعت احمدیہ کے خلاف نیا آرڈینینس جاری کیا مجھے سن کر دیکھ اور رنج ہوا کہ یہی ایک جماعت اسلام کی خدمت میں کوشاں ہے۔یہ تو بڑا ظلم ہے، مجھے سخت تکلیف تھی چین نہیں آتا تھا ، میں کراچی چلا گیا اور دعا کرتا رہا کہ اے خدا ! یہ جماعت تیرے دین کی خادم ہےان کے خلاف ایسا حکم جاری کرنے والا تو میرے نزدیک بڑا ظالم ہے۔مجھے آواز آئی قرآن کھولو ! میں نے کہا کہ قرآن تو میں ہر روز پڑھتا ہوں، پھر آواز آئی قرآن کھولو تمہارے دکھ کا تدارک ہو جائے گا۔اسی طرح تیسری دفعہ بھی یہی آواز آئی یہ ۱۳ رمئی ۱۹۸۴ء کا واقعہ ہے۔تیسری آواز پر میں اٹھا وضو کیا، قرآن مجید کو بطور فال کھولا تو میرے سامنے سورۃ انعام کی آیت ۵۳ کھلی اور اس آیت پر میری نظر پڑی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : تو ان لوگوں کو جو اپنے رب کو صبح و شام اس کی توجہ چاہتے ہوئے پکارتے ہیں مت دھتکار۔ان کے حساب کا کوئی حصہ بھی تیرے ذمہ نہیں اور تیرے حساب کا کوئی حصہ ان کے ذمے نہیں پس اگر تو انہیں دھتکارے گا تو ظالم ہو جائے گا۔“