خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد ۳ 489 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء ہے۔وہی حق بیان فرماتا ہے اور وہی کھول کر بتاتا ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے اور اس کو طاقت بھی ہے۔فیصلے کے ساتھ طاقت کا ہونا ضروری ہے۔یعنی ایسا فیصلہ جوصرف مشورہ ہی ہواس کی حیثیت ہی کوئی نہیں رہ جاتی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں جو فیصلہ دیتا ہوں پھر مجھے طاقت ہوتی ہے کہ میں اسے نافذ کر کے دکھاؤں اَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحَسِبِينَ (الانعام : ٦٣) خدا جب فیصلے کیا کرتا ہے تو پھر وہ حساب بھی کرتا ہے اس کے ساتھ اور سب سے زیادہ تیز حساب کرنے والا پھر اللہ ہے اور یہ کہ کر آنحضرت ﷺ کی زبان سے مخالفین کو یہ کہلوایا کہ جہاں تک مذہبی امور میں اختلافات کا تعلق ہے جو تجھے تسلیم نہیں کرتے ان کے اور تیرے درمیان خدا کے سوا کوئی اور فیصلہ کر ہی نہیں سکتا ایسی صورت میں : فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ (الاعراف: ۸۸) ایک ہی اعلان ہو سکتا ہے کہ صبر کرو اللہ فیصلہ کرے گا اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔پس یہ ہے جماعت احمدیہ کا مؤقف اور ہر احمدی کو یہی کہنا چاہئے اپنے مد مقابل کو کہ اللہ أَسْرَعُ الْحَسِبِيْنَ ہے وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اس لئے تم صبر کرو اور دیکھنا کہ خدا کی تقدیر کس کو سچا ثابت کرتی ہے اور کس کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔ایک عدالت آج لگی ہے ایک قیامت کے دن لگے گی وہاں پر یہ نہیں کہ کون کون سے سلطان سامنے ہوں گے اور کون کون سے نہیں ہوں گے اور کس قسم کی شرعی عدالتیں ہوں گی اور کیا حالت ہوگی ان کی اپنی؟ اس وقت یہ معاملات پیش ہوں گے اَحْكُمُ الْحَاكِمِینَ کچھ فیصلے دنیا میں بھی دے گا اور ہمیں علم ہے کہ ضرور دے گا لیکن آخری فیصلہ وہی ہے جو قیامت کے دن ہوگا ، اس دن پتہ چلے گا کہ کون سچے تھے اور کون خدا کی رحمت کے سائے تلے زندگی بسر کیا کرتے تھے اور کون خدا کے غضب کے تلے زندگی بسر کرنے والے تھے لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ وہ کس حالت میں زندہ رہ رہے ہیں۔بعض پہلو اس کے ایسے ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبہ میں بیان کروں گا۔دو قسم کے احکام میں نے بیان کئے ہیں، ایک وہ جو عدلیہ سے تعلق رکھتے ہیں قرآن کریم کے اور ایک وہ جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں دونوں جگہ بنیادی شرط عدل کی قائم فرمائی۔تو عدالت نے کس قسم کا عدل قائم کیا اور