خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 488
خطبات طاہر جلد۳ 488 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء زیادہ سے زیادہ حق جا سکتا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ دے اور دیگر مذاہب میں تو کسی کا حق بنتا ہی نہیں۔اس کے متعلق تو قرآن کریم نے نہ آنحضرت ﷺ کو مقر فرمایا اور نہ آپ نے یہ بات کی دائرہ اسلام کے اندر رہتے ہوئے آپ نے جو فیصلے دیئے ہیں۔پس اگر کوئی اور فریق ایسا آجائے شرعی عدالت کے سامنے جس کو مسلمان ہی نہ سمجھتے ہوں تو ان کے بارے میں پھر وہ کیسے فیصلے دیں گے؟ قرآن اور سنت کی رو سے وہ کہہ سکتے ہیں ، مثال ایک دے سکتے ہیں کہیں گے کہ ٹھیک ہے، ایک مین میخ نکالی جاتی ہے، اس کو بھی میں واضح کر دوں کہ جب یہ کوئی اُٹھائے مسئلہ کو تو اس کا یہ جواب ہے۔جماعت احمدیہ نے اول تو اس کی شرعی حیثیت کوئی تسلیم نہ کی ، جو احمدی گئے وہ یہ کہتے ہوئے گئے ہیں کہ قرآن یہ کہ رہا ہے ہم قرآن کو تسلیم کریں گے تمہیں تسلیم نہیں کریں گے اور جب کوئی یہ کہے کہ میرے نزدیک قرآن یہ کہتا ہے تو اس وقت حضرت علی اور حضرت معاویہ کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں عدالت تمہارے خلاف بھی دے تو تم نے قرآن کے فیصلے کو پکڑنا ہے عدالت کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں خواہ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کا خون ہو جائے خواہ ایسا اختلاف ہو کہ وہ جاری ہو جائے ہمیشہ کے لئے لیکن قرآن کو نہیں چھوڑنا اگر تم سمجھتے ہو کہ قرآن یہ کہتا ہے تو تم نے قرآن کو پکڑ لینا ہے اس لئے وہ مثال یہاں نہیں آتی یہ مثال صادق آتی ہے تو اس لحاظ سے جماعت احمدیہ کا یہ موقف بڑا واضح ہے۔تمہاری جو حیثیت قرآن مقرر کرتا ہے پہلے سلطان کی تو کر لو جب سلطان بن جائے گا تو پھر اگلی بات ہوگی۔اگر سلطان کی بھی حیثیت کوئی نہیں تو پھر تمہاری حیثیت کیا ہے؟ اور اگر تمہاری ہو بھی اور اتنی بڑی حیثیت بھی ہو جائے کہ حضرت علی نے تمہیں مقرر فرمایا ہو اور معاویہؓ نے صاد کیا ہو تب بھی اگر قرآن کے خلاف تمہارا فیصلہ ہوگا تو ایک بھی فریق اس فیصلے کو نہیں مانے گا آزاد ہے ہر فریق۔اس حیثیت سے جو بھی فیصلے کی حیثیت بنتی ہے اس کو دیکھ لیجئے۔ان امور میں فیصلہ کی حقیقت یہ ہے کہ سوائے خدا کے اور کوئی نہیں کر سکتا چنا نچہ قرآن کریم اس معاملہ میں بڑی واضح تعلیم دیتا ہے فرماتا ہے: إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِينَ ) (الانعام: ۵۸) کہ جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، حق کا معاملہ ہے سوائے اللہ کے کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں