خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد ۳ 468 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء اتنے احمدی وہاں نئے احمدی ہوئے اب اور بھی ہو رہے ہیں کہ حیدر آباد دکن میں جب سے احمدیت آئی ہے وہاں سے اب تک اتنے احمدی نہیں تھے پرانے موجود، بچوں سمیت جتنے خدا نے نئے احمدی دے دیئے کثرت سے ہزاروں کی تعداد میں آئی ہیں اب تو رحجان سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور جہاں رجحان دیکھا جائے وہاں پوری قوت کو اس طرف صرف کر دینا چاہئے۔یہ لکھتے ہیں کہ ایک بنی بنائی مسجد بھی مل گئی ہے جسکے امام صاحب احمدی ہو گئے اور ان کے ساتھ ان کے نمازی بھی احمدی ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور پورا امام اور مسجد اور نمازی اکٹھے کے اکٹھے خدا کی طرف سے تحفہ مل گیا۔تو چونکہ ادھر رجحان ہے اس لئے کینیا والوں کو اب چاہئے کہ اپنے سابقہ داغ دھوئیں تبلیغ کی کمزوری کے اور ادھر تیزی کے ساتھ چڑھائی کریں فوج در فوج اور دیہات میں پھریں۔عیسائی مبلغین بڑی تکلیفیں اٹھاتے تھے احمدیوں کو تو اس سے زیادہ تبلیغ کے میدان میں قربانی کے نمونے دکھانے چاہئیں کیونکہ وہ مسیح محمدی کے غلام ہیں۔عیسائی پادریوں نے قربانی کے حیرت انگیز کام کئے ہیں۔جنگلوں میں جا کے بس گئے۔واقف عارضی کو تو صرف دس پندرہ دن کے لئے تکلیف اٹھانی ہوگی لیکن بعض تو ایسے پادری تھے جنہوں نے وہاں عمریں گزار دیں، بیماریوں میں ملوث ہوئے دکھ اٹھائے بعض جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے، بعض کو وہاں آدم خور کھا گئے لیکن انہوں نے اپنی تبلیغ نہیں چھوڑی۔تو بڑی قربانیاں ہیں اس عیسائیت کے پس منظر میں جو آپ کو افریقہ میں نظر آرہے ہیں۔اس لئے جہاں بھی خدا تعالیٰ رجحان پیدا کر رہا ہے وہاں کی جماعتوں کو چاہئے کہ اب مبلغ پر نہ رہنے دیں بلکہ فوراً اپنی ساری قوتوں کو اس طرف جھونک دیں اور کوشش کریں کہ فوج در فوج پھر اس علاقے میں احمدیت پھیلنی شروع ہو جائے۔جہاں تک پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے ان کیلئے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات پڑھ کر سناتا ہوں اور مخاطب خاص طور پر تو وہ ہیں لیکن باقی جماعت کے لئے بھی اس میں بڑے سبق ہیں اور گہری نصیحتیں ہیں جن پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو انسان بہت ترقی کر سکتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، یہ تین اقتباس میں نے چنے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: روز روشن کے ظہور سے پہلے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرستادوں پر