خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد ۳ 463 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء Greece ( یونان ) میں پہلی مرتبہ گریکس کے مسلمان ہونے کی خوشخبری ملی ہے بیعت ہوئی تو انگلستان میں ہی ہے لیکن دوگر یک مائیں ہیں جنہوں نے احمدیت قبول کی ہے اور ان کے بچے بھی ساتھ ہیں خدا کے فضل سے۔تو یہ بہت خوشخبری کی بات ہے ایک تو واپس چلی گئی ہیں یہاں سے اور بہت ہی نیک ارادے لے کر گئی ہیں اور انہوں نے عہد کیا ہے کہ جاکے میں اپنے خاندان میں اور علاقے میں تبلیغ کی کوشش کروں گی۔امریکہ میں اگر چہ جماعت بہت تعلیم یافتہ ہےاور مقامی طور پر امریکن بھی خدا کے فضل سے کافی تعداد میں احمدی ہیں لیکن تبلیغ میں امریکہ پیچھے ہے۔ایک ڈٹین کی جماعت کبھی کبھی جوش دکھاتی ہے اور ایک دم پنپنا شروع کرتی ہے پھر ان پر نیند بھی آجاتی ہے پھر کچھ دیر آرام کرتے ہیں تو امریکہ کو توجہ دلانی چاہئے کچھ امریکن نمائندے یہاں موجود ہیں اس وقت ان کو میں خاص طور پر پیش نظر رکھ رہا ہوں کہ امریکہ میں پاکستانی بالکل تبلیغ نہیں کر رہا۔جو امریکن افریقین ہیں وہ تو خدا کے فضل سے کر بھی لیتے ہیں اور ان میں وائٹس (Whites) بھی کرتے ہیں اور پچھلے سال بھی سفید فام امریکنوں میں بھی بیعتیں ہوئیں لیکن وہ بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کبھی اٹھتے ہیں کبھی سو جاتے ہیں۔ایک استقلال جو مومن کی زندگی میں نظر آنا چاہئے وہ نہیں ہے اور پاکستانی تو تبلیغ میں بہت ہی نکھے ہیں بیچارے زیادہ سے زیادہ جو بہت مخلص کہلاتے ہیں وہ چندے میں مخلص ہیں اور بعض لوگ اپنے بچوں کو قرآن شریف وغیرہ پڑھا دیتے ہیں گھر میں اور تربیت بھی کر رہے ہیں۔یہ بڑا اہم کام ہے بہت بنیادی کام ہے لیکن تبلیغ میں پیچھے رہ گیا ہے امریکہ خصوصاً امریکن پاکستانی شاید ان کو خدا تعالیٰ نے چونکہ سہولیتیں زیادہ دی ہیں، ان کے مقام زیادہ بلند ہیں مالی دنیاوی لحاظ سے تو شاید وہ سمجھتے ہوں کہ ہم تبلیغ والے لوگ نہیں ہیں، تبلیغ تو نچلے آدمیوں کا کام ہے تو یہ درست نہیں ہے میں نے پہلے بھی کہا تھا اونچا وہی ہے جو تبلیغ میں اونچا ہے اور وہی اونچے ہوں گے آئندہ اور انہی کی نسلیں اونچی کی جائیں گی جو تبلیغ میں اونچے ہوں گے جو اس میں گر جائیں گے ان کی نسلوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔نائیجیریا سے فضل الہی صاحب انوری اطلاع دیتے ہیں بعض خوشخبریاں دے رہے ہیں ایک تو ئسر وا کے مقام پر بارہ ایکٹر زمین برائے سکول مل گئی ہے، وہاں ایک نیا سکول جاری کیا جائیگا انشاء اللہ۔اور اوگا تو نسر وا موشا سے پندرہ میل دور ایک قصبہ میں 16 افراد نے بیعت کی ہے اور ایک نئی جماعت