خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 440
خطبات طاہر جلد ۳ 440 خطبه جمعه ار ا گست ۱۹۸۴ء منٹوں میں وہاں ربوہ والوں کا اتنا ہجوم ہو گیا کہ وہاں سے گزرنا مشکل ہور ہا تھا اور ہر ایک آگے بڑھ کر ان دونوں کو گلے مل رہا تھا اور وہ دونوں مسکرا مسکرا کر سب کو تسلیاں دے رہے تھے یعنی دنیا میں تو الٹ ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ قید ہوتے ہیں باہر والے آکر ان کو تسلیاں دیتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں قید ہونے والوں کا عجیب حال ہے کہ باہر والے بے قرار اور بے چین ہیں اور وہ ان کو تسلیاں دے رہیں ہیں۔تسلی کے سلسلہ میں ایک آپ کو لطیفہ بھی سنا دوں۔ایک بچی نے مجھے یہ لکھا ہے کہ آپ جماعت کی بالکل فکر نہ کریں اگر یہ جماعت آپ کو پیاری لگتی ہے تو اللہ کوبھی تو پیاری لگتی ہے وہ خود اس کی فکر کرے گا جو اللہ کو پیاری لگتی ہے مجھے اور پیاری کیوں نہ لگے؟ پھر یہ عجیب بات ہے اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت علﷺ سے ہم نے سبق سیکھنے ہیں۔آنحضرت ﷺ تو دشمن کے غم سے بھی اتنا در دمحسوس فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو خود یہ کہنا پڑا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۴۰) کہ اے محمدعلی تو ان ظالموں کے لئے اپنے آپ کو غم میں ہلاک کر لے گا جو ایمان نہیں لاتے ! تو ہم نے تو حضوراکرم اللہ سے ڈھنگ سیکھنے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بچی کے ذہن میں وہ ابر ہ والا واقعہ رہ گیا ہے جب غالبا عبدالمطلب کی بات ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ مجھے اپنے اونٹوں کی فکر ہے کیونکہ میں اونٹوں کا مالک ہوں رب الکعبہ کو کعبہ کی فکر ہو گی کیونکہ وہ کعبہ کا مالک ہے یر عبدالمطلب کے منہ سے تو بات بجتی ہے لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ نے کبھی یہ نمونہ نہیں دکھایا۔جو رب کعبہ کا تھا وہ آپ کا بھی تھا۔جو رب کعبہ کو عزیز تھا وہ آپ " کو بھی عزیز تھا اس لئے جو محمد مصطفیٰ ﷺ کا اسوہ ہے ہم نے تو اس کو اپنانا ہے، ہمیں اس سے کیا غرض کہ عبدالمطلب نے کیا جواب دیا تھا۔ایک شیخو پورہ کے دوست اپنی بچی کا حال لکھتے ہیں یہ وہی آنسو ہیں جو دلوں میں ایک توانائی پیدا کر نے والے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں بھی مسجد مبارک پہنچا جس دن آپ آخری رات وہاں دوستوں کو خطاب کر رہے تھے اس رات کی بات ہے۔یہ دوسری جگہ سے چل کر آئے تھے انہوں نے کہا میں نے اپنے دو بچے ساتھ لئے اس ارادہ سے کہ وہاں جا کر اپنے آپ کو اپنے بچوں کو شہادت کے لئے پیش کر دوں اور چونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ آپ کی ذات کو خطرہ ہے اس لئے یہ تمنالے کر چلے تھے کہ ہماری لاشوں پر سے گزر کے دشمن آپ تک پہنچے ورنہ آپ تک نہ پہنچ سکے۔جب ہم چلنے لگے تو