خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد ۳ 416 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء لاؤ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے خود اور اس کے کلام پر ایمان لاتا ہے۔وَاتَّبِعُوہ اس کی پیروی کرو لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ تا کہ تم ہدایت پا جاؤ۔یہ ہے قرآن کریم کا حکم اور بعض حکومتوں کا حکم یہ ہے کہ اس کی پیروی نہ کرو کیونکہ ہمارے نزدیک چونکہ تم مسلمان نہیں ہو اس لئے ہم یہ حکم دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی نہ کرو ورنہ سزا ملے گی۔تو آپ کی ہم پیروی کرتے ہی نہیں پہلے نہ ہمیں کوڑی کی پرواہ ہے آپ کی پیروی کی۔ہم تو جس کی پیروی کرتے ہیں قرآن میں حکم ہے کہ اس کی پیروی کرو اس لئے یہ دیکھنا پڑے گا کہ اگر پیروی منع ہے تو کس کس جگہ منع ہے کون کون سی جگہ منع نہیں ہے یعنی آنحضرت جب معروف کا حکم دیتے ہیں اگر یہ نقالی ہے اور اس سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو احمدیوں کے لئے پھر یہ جرم ہونا چاہئے کہ وہ سچ بولیں ، احمدیوں کے لئے جرم ہونا چاہئے نبی عن المنکر فرماتے ہیں رسول اللہ ہے کہ وہ اگر چوری نہ کریں تو یہ جرم ہے۔جتنی نیکیاں اسلام میں لکھی ہوئی ہیں حضرت اقدس محمد رسول اکرم علی نے اپنی سنت سے کر کے دکھائی ہیں وہ ساری نقالی ہیں ان میں سے کون سی ہے جو نقالی نہیں ہے اور جتنی برائیاں منع فرمائی ہیں ان سے بچنا نقالی ہے تو پہلے یہ تو قانون بناؤ کہ پاکستان میں اگر کسی احمدی نے کسی کو گالی نہ دی تو جرم ہوگا اور اگر کسی احمدی نے کسی کی چوری نہ کی تو یہ جرم ہوگا اگر قتل نہیں کرے گا تو جرم ہوگا، اگر ڈا کہ نہیں ڈالے گا تو جرم ہوگا ، اگر غریبوں کی حق تلفی نہیں کرے گا تو جرم ہوگا ، اگر شراب نہیں پئے گا تو جرم ہوگا، اگر سور نہیں کھائے گا تو جرم ہوگا ، اگر وہ لوگوں کو حرام نہیں کھلائے گا تو جرم ہوگا۔ہر نیکی کو قانونا الٹانا پڑے گا آپ کو کیونکہ یہ نیکیاں ہم نے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے سیکھی ہیں اور قرآن فرمارہا ہے کہ آپ سے ہی سیکھو گے تم آئندہ کے لئے ہر خیر کا پیمانہ آنحضور کے غم خانے سے ملے گا اس لئے جب باہر کچھ رہا ہی نہیں تو نقالی کے بغیر چارہ ہی کوئی نہیں ہے۔کون سی دنیا کی قوم ہے جو حضور ا کرم کی نقالی کے بغیر ہی دنیا میں پنپ سکتی ہے اور تہذیب سیکھ سکتی ہے کیونکہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ہر قسم کی تہذیب، ہر قسم کی اعلیٰ زندگی ، ہر قسم کی پاکیزگی آنحضرت علی سے وابستہ فرما دی گئی۔پس اگر آپ روکتے ہیں کہ اس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے تو پھر قانون تفصیل سے بنائیے کہ جو بھی جس کو بھی ہم کہیں گے غیر مسلم ہے اس کو آنحضرت ﷺ کی ہر بات میں الٹ چلنا ہوگا تب ہمارے دل کو ٹھنڈ پڑے گی۔وہ احسان کیا کرتے تھے اگر تم بھی احسان کرو گے تو ہمیں بہت تکلیف