خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 397
خطبات طاہر جلد ۳ 397 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔صرف اس حالت میں وہ یہاں رہ سکتا ہے کہ اب خاموش رہے اور تبلیغ نہ کرے۔چنانچہ حضرت ابو طالب حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور کہا میرے بھتیجے، میرے بیٹے ، اس طرح قوم مجھ سے کہہ رہی ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ رہی بلکہ وہ اس پیشکش کے ساتھ کچھ مراعات بھی تمہیں دینا چاہتی ہے اور پیغام یہ ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ عرب کا بادشاہ بن جاؤ تبلیغ کا مقصد یہی ہوگا کہ ساری قوم تمہارے پیچھے لگ جائے، تمہیں اکثریت حاصل ہو جائے اور حکومت کے بھوکے ہو تمہیں حکومت عطا ہو جائے تو تبلیغ چھوڑ دو حکومت ہم تمہیں دیتے ہیں۔یہ کون سی بات ہے، حکومت سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں ، حکومت ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔وہ قوم موجودہ زمانے کی قوموں سے اس لحاظ سے ضرور مختلف تھی۔آج کل کہتے ہیں حکومت نہیں دینی اور جو مرضی کر لو لیکن اُن قوموں میں اتنی عقل تھی کہ اصولوں کی حفاظت کرتے تھے۔وہ کہتے تھے ہمیں اصولی اختلاف ہے ،حکومت کی لالچ نہیں ہے اس لئے حکومت بے شک لے لو لیکن اصول نہیں ہم توڑنے دیں گے بہر حال بہت بہتر نمونہ تھا اس لحاظ سے۔چنانچہ حضرت ابوطالب نے پیغام جاری رکھا اور فرمایا کہ دیکھو وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تمہیں دنیا کی حسین ترین عورت چاہئے ہو کیونکہ انسانی زندگی کی جو دوڑ ہے، جو جد و جہد ہے اس میں حکومت بھی ہے اور عورت کی تمنا بھی ہوتی ہے اور بے انتہا فساد جو سوسائیٹیوں میں پھیلا ہوا ہے اس میں یہی چاہت پیچھے سے کام کر رہی ہے۔چنانچہ کیسا اچھا نفسیاتی تجزیہ کیا انہوں نے ، انہوں نے کہا تم انگلی رکھو اور عرب کی حسین ترین دوشیزہ ہم تمہارے خدمت میں حاضر کر دیں گے لیکن تبلیغ سے باز آ جاؤ۔پھر انہوں نے کہا کہ ایک تیسری چیز جس نے ساری دنیا میں فساد برپا کر رکھا ہے وہ دولت ہے تو ہوسکتا ہے ان کی خواہش یہ ہو کہ عربوں میں تبلیغ کر کے جب حکومت بنالوں گا تو سارے عرب کی دولت سمیٹ لوں گا، دکانداری بنانی ہے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اگر دولت کی بحث ہے تو پھر فساد چھوڑ و، دولت ہم دینے کے لئے حاضر ہیں، سارے عرب کی دولت تمہارے قدموں پر نچھاور کر دیں گے لیکن تم خاموش ہو جاؤ۔آنحضرت عل خاموشی سے اور بڑے درد سے اس بات کو سنتے رہے اور پھر فرمایا کہ اے میرے چچا! معلوم ہوتا ہے آپ مجھے پناہ دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔اور اب چاہتے ہیں کہ اپنی پناہ کو اٹھا لیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے تو آپ کی پناہ کی ضرورت نہیں مجھے تو میرے خدا کی پناہ کی ضرورت